BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 December, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کی بات کرنے والے کہاں ہیں؟

سول سوسائٹی نے اب تک وہ کردار ادا نہیں کیا ہے جو وہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ماضی میں چھوٹے موٹے مسائل پر بھی متحرک ہوجانےوالی سول سوسائٹی حالیہ کشیدگی کے باوجود ابھی تک قدرے خاموش دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ لوگ تناؤ میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں مسئلہ چاہے معزول عدلیہ کا ہو یا فوجی آمر کا، سول سوسائٹی ایک اہم فریق بن کر ابھری تھی۔ تعداد میں چاہے دو چار ہی ہوں لیکن سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے یہ کارکن بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ملک بھر میں سڑکوں پر نظر آئے اور اپنا موقف بھرپور انداز میں واضح کیا۔

اس تحریک نے زور صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مارچ دو ہزار سات میں معزولی کے بعد سے پکڑا جس میں بعد میں حقوق انسانی اور دیگر شعبوں سے منسلک غیرسرکاری تنظیمیں شامل ہوگئیں۔

اس وقت یہ تاثر ابھرا کہ سیاسی جماعتوں نے تو نہیں لیکن سول سوسائٹی نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک کی قیادت سنبھال لی تھی۔

سول سوسائٹی کے اس درجہ متحرک ہونے پر ملک میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق فوجی سے جمہوری حکومت کی تبدیلی اس سول سوسائٹی کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ لیکن اب جب جنوبی ایشیا پر ایک مرتبہ پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، سول سوسائٹی قدرے خاموش ہے۔

ماضی میں ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن بھی دونوں ممالک کے درمیان امن کے فروغ کی بات کرتی رہی ہے۔ اس بابت دونوں ممالک کے دورے اور سیمینار تقریباً روزانہ کا معمول تھے لیکن ابھی تازہ کشیدگی میں خاموش دکھائی دے رہی ہے۔

سیفما کے سربراہ امتیاز عالم اعتراف کرتے ہیں کہ حالات کافی خراب کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیفما بھی اس بابت سوچ بچار اور رابطے کر رہی ہے اور جلد ہی کچھ کریں گے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’لوگ دبک گئے ہیں۔ ان لوگوں کو باہر نکلنا چاہیے جو برصغیر میں امن چاہتے ہیں۔ بہت جلد اس کے بارے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں انتہا پسند قوتوں کو کہ جنگ ہمارے خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

ممبئی حملوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے میڈیا نے تمام ایجنڈا ہائی جیک کر لیا ہے۔ اب تمام چینل اور جرائد بڑھتی کشیدگی پر توجہ دے رہے ہیں لیکن امن کی بات کرنے والوں کو وہ توجہ نہیں مل رہی جو ملنی چاہیے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں ممالک کا میڈیا قوم پرست ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔

دونوں طرف لوگ بے حد ناراض ہیں

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اقبال حیدر کہتے ہیں کہ انہوں نے کمیشن کی جانب سے ممبئی حملوں کے دوسرے روز ایک بیان جاری کیا تھا لیکن انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اسے کہیں بھی میڈیا میں جگہ نہیں ملی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ممبئی کے بعد کراچی کے واقعات نے بھی میڈیا کی توجہ دوسری جانب موڑ دی تھی۔

’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم خاموش ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ممبئی واقعات کے پیچھے جو کوئی بھی ہے وہ دونوں ممالک کے دشمن ہے۔‘

امتیاز عالم نے کہا کہ میڈیا نے فضا خراب کرنےمیں غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

’ہم نے دونوں میڈیا سے کہا ہے کہ وہ جلتی پر تیل کا کام نہ کریں۔ ہمیں فائر فائٹنگ کرنی چاہیے کشیدگی کم کرنی چاہیے۔‘

ہندوستان کے اخبار ایشین ایج کی پولیٹکل ایڈیٹر سیما مصطفی کا کہنا ہے کہ بھارتی سول سوسائٹی مشعل بردار جلوسوں، خطوط، بیانات اور مضامین کے ذریعے جنگ کی فضاء کم کرنے اور اپنی سکیورٹی بہتر بنانے کی پوری پوری کوشش کر رہی ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جنگ کی بات کر رہے ہیں۔

دیر آئید درست آئید کی مانند دونوں ہمسایہ ممالک میں امن کے فروغ اور تعلقات میں بہتری کے لیئے مصروف پاک انڈیا فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کا ایک ہنگامی اجلاس چھ اور سات دسمبر کو دلی میں طلب کیا گیا ہے۔

ادھر پاکستان میں بھی اب غیرسرکاری تنظیمیں آئندہ چند روز میں مظاہرے اور امن ریلیاں منعقد کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں پاکستانی سول سوسائٹی کی آواز بھی آہستہ آہستہ موجودہ ’جنگی شور‘ میں سے ابھر کر سامنے آنا شروع ہو جائے گی۔

 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
شیتلخواتین وارڈ میں
ممبئی حملوں کا نشانہ بنی ننھی شیتل
ممبئی کے سیاح
’اب دنیا میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے‘
ممبئی پر حملےممبئی میں ’جنگ‘
ممبئی میں دہشت کا راج: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد