BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سول سوسائٹی امن مشن انڈیا میں

پاکستانی وفد نے منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے خصوصی ملاقات کی تھی
پاکستان کی سول سوسائٹی کے دو درجن نمائندوں پر مشتمل ایک وفد امن کا پیغام لیکر انڈیا پہنچ گیا ہے۔ پاکستانی وفد کے اراکین نے واہگہ کے راستے سرحد پار کی۔

ممبئی حملوں کے بعد یہ پہلا باضابطہ امن وفد ہے جو پاکستان سے بھارت پہنچا ہے۔

انڈیا جانے والوں میں انسانی حقوق کمشن کی چیئرپرسن سربراہ عاصمہ جہانگیر، ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی سیفما کے سربراہ امتیاز عالم معروف صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسنیٹر حاجی عدیل اور پیپلز پارٹی کے چودھری منظور شامل ہیں۔

انڈیا میں تین روزہ قیام کے دوران پاکستانی امن وفد کے اراکین سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بھارتی سیاستدانوں سے ملاقات کریں گے اور انہیں امن مذاکرات بحال کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کے کریں گے۔

ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سربراہ امتیاز عالم نے انڈیا روانگی سے پہلے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن مشن ہے ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کے بادل چھٹیں بات چیت کا ماحول بنے اور دوبارہ سے ہم امن عمل کی طرف لوٹ آئیں۔‘

امتیاز عالم نے کہا کہ ’عدم تعاون سے دونوں ملکوں کو نقصان اور دہشت گردوں کو فائدہ ہورہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ممبئی حملوں کو دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ مضبوط دوستی اور تعاون کی مثال بنا دیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور امن کا عمل دس دہشت گردوں کے ہاتھوں کبھی بھی یرغمال نہ بن سکے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پاکستان اور خود براہ راست ان کی جماعت دہشت گردی کا شکار ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے سے ملکر شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کام کریں۔

حاجی عدیل نے کہا کہ وہ ممبئی حملوں کے ہلاک شدگان کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دس شدت پسندوں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے سواارب افراد کو برے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ جب دونوں ملکوں آپس کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کررہے تھے اور اس سمت میں مثبت پیش رفت ہورہی تھی بلکہ دونوں ملکوں میں ویزے ختم کرنے تک کی بات سننے میں آئی لیکن دس افراد نے ممبئی حملے کرکے سب کوششوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

پاکستانی وفد کے اراکین نے انڈیا روانگی سے پہلے کل اسلام آباد میں صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے خصوصی ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امن وفد کے اراکین کو ممبئی کے واقعات کے بعد پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کو سزا دینے کے فیصلے پر قائم ہے ۔

فائل فوٹوممبئی ڈوسیئر
پاکستان کو دیئے گئے شواہد کیا ہیں؟
پاکستانی فنکار کاشف خانہند پاک کشیدگی
ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں: مہیش بھٹ
نفسیاتی دباؤ
ممبئی والےگھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں
ممبئی سیاح کیمیجنگ ضروری نہیں
’پاکستان کو سبق سکھانا لازم مگر جنگ کے بغیر‘
 ممبئی’اب بہت ہو گیا‘
ممبئی میں حملوں کے خلاف احتجاج
دہشتگردی، نیا قانون
بنیادی حقوق نظر انداز کرنا کس حد تک جائز ؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد