سول سوسائٹی امن مشن انڈیا میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سول سوسائٹی کے دو درجن نمائندوں پر مشتمل ایک وفد امن کا پیغام لیکر انڈیا پہنچ گیا ہے۔ پاکستانی وفد کے اراکین نے واہگہ کے راستے سرحد پار کی۔ ممبئی حملوں کے بعد یہ پہلا باضابطہ امن وفد ہے جو پاکستان سے بھارت پہنچا ہے۔ انڈیا جانے والوں میں انسانی حقوق کمشن کی چیئرپرسن سربراہ عاصمہ جہانگیر، ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی سیفما کے سربراہ امتیاز عالم معروف صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسنیٹر حاجی عدیل اور پیپلز پارٹی کے چودھری منظور شامل ہیں۔ انڈیا میں تین روزہ قیام کے دوران پاکستانی امن وفد کے اراکین سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بھارتی سیاستدانوں سے ملاقات کریں گے اور انہیں امن مذاکرات بحال کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کے کریں گے۔ ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سربراہ امتیاز عالم نے انڈیا روانگی سے پہلے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن مشن ہے ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کے بادل چھٹیں بات چیت کا ماحول بنے اور دوبارہ سے ہم امن عمل کی طرف لوٹ آئیں۔‘ امتیاز عالم نے کہا کہ ’عدم تعاون سے دونوں ملکوں کو نقصان اور دہشت گردوں کو فائدہ ہورہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ممبئی حملوں کو دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ مضبوط دوستی اور تعاون کی مثال بنا دیا جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور امن کا عمل دس دہشت گردوں کے ہاتھوں کبھی بھی یرغمال نہ بن سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پاکستان اور خود براہ راست ان کی جماعت دہشت گردی کا شکار ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے سے ملکر شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ حاجی عدیل نے کہا کہ وہ ممبئی حملوں کے ہلاک شدگان کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دس شدت پسندوں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے سواارب افراد کو برے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ جب دونوں ملکوں آپس کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کررہے تھے اور اس سمت میں مثبت پیش رفت ہورہی تھی بلکہ دونوں ملکوں میں ویزے ختم کرنے تک کی بات سننے میں آئی لیکن دس افراد نے ممبئی حملے کرکے سب کوششوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی وفد کے اراکین نے انڈیا روانگی سے پہلے کل اسلام آباد میں صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے خصوصی ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امن وفد کے اراکین کو ممبئی کے واقعات کے بعد پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کو سزا دینے کے فیصلے پر قائم ہے ۔ |
اسی بارے میں ’ڈوسیئر پر مزید تفتیش کی ضرورت‘16 January, 2009 | پاکستان ممبئی حملے: ’ٹریک ٹو بھی ممکن نہیں‘15 January, 2009 | پاکستان ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘15 January, 2009 | پاکستان ثبوت مل جائیں، تو سزادیں: مقرن14 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||