BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 July, 2008, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پشت پناہی کرنے والے اقتدار پر‘

صحافی
’اگر کسی اخبار نے امہ حسان کا کارٹوں شائع کر دیا تو کون سی مصیبت آن پڑی ہے: عاصمہ جہانگیر
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا جرنیل انتہا پسندوں کی پشت پر ہیں جس کی وجہ سے ان کی ہمت بڑھ گئی ہے اور تشدد کے علاوہ وہ کوئی اور بات ہی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ’وہی قوتیں‘ اقتدار پر قابض ہیں جو ایک ہاتھ سے انتہا پسندوں کو نوالہ کھلا رہی ہیں تو دوسرے ہاتھ سے امریکا کو نوالہ دے رہی ہیں تاکہ یہ دونوں (امریکا اور انتہا پسند) لڑتے رہیں اور وہ اقتدار میں بیٹھے رہیں۔

انہوں نے یہ بات لاہور میں ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سفما) کی جانب سے ’اظہار رائے کی آزادی اور تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب نجم سیٹھی کی ادارت میں چلنے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اور اردو روزنامہ آجکل کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے منعقد کی گئی۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی تک اقتدار جمہوری قوتوں کو منتقل نہیں ہوا۔

نجم سیٹھی نے تقریب میں بتایا کہ عسکریت پسند گروہوں سے پشاور میں ان کو شدید خطرات ہیں اور اسلام آباد میں روزانہ فون پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں کہا جا رہا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسی تبدیل کریں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا ’اگر کسی اخبار نے امہ حسان کا کارٹوں شائع کر دیا تو کون سی مصیبت آن پڑی ہے ۔ یہی اخبار ہمارے کارٹوں بھی شائع کرتے ہیں تو کیا امہ حسان آسمان سے اتری ہیں؟‘

سیاستدان کہاں ہیں؟
 ملک انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے لپیٹ میں آتا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟ لوگوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے پیچھے لگا دینا کوئی سیاست نہیں ہے
عاصمہ جہانگیر

انہوں نے کہا کہ اخبارات میں تو بینظیر بھٹو کے بھی کارٹون شائع کیے جاتے تھے وہ تو پاکستان کی لیڈر تھیں تو کیا امہ حسان بینظیر بھٹو سے بڑھ کر ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جتنی عزت امہ حسان کی ہے اتنی ہی عزت آپا شمیم کی بھی ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں جس کو چاہے بندوق کے زور پر اٹھا لیں؟

عاصمہ جہانگیر نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سے اسلام کے نام پر لڑکیوں کے سکول جلائے جا رہے ہیں۔ سی ڈیز اور حجاموں کی دکانیں جلائی جا رہی ہیں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا ’ملک انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے لپیٹ میں آتا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟ لوگوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے پیچھے لگا دینا کوئی سیاست نہیں ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے پاکستانی میڈیا پر شدید تنقید کی اور کہا کہ میڈیا نے بہت بہتر کام کیے ہیں لیکن بہت کچھ ایسا بھی نشر کیا جاتا ہے جو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا والے بھی ذمہ داری سے کام لیں۔

پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتہا پسندی کو سب سے زیادہ بھگتا ہے۔

بلیک آؤٹ
 اخباری اور نجی ٹی وی چینل ایسی عسکریت پسند قوتوں، شدت پسندوں اور دہشتگردوں کا بلیک آؤٹ کریں جو صحافتی اداروں اور صحافیوں کو دھمکاتے یا ان پر تشدد کرتے ہیں
امتتیاز عالم

’یہ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے، یہ جنگ جمہوریت کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان جنگ ہے۔ یہ جنگ آرڈر اور ڈس آرڈر کے درمیان ہے اور یہ انتہا پسند، عسکریت پسند قوتیں پاکستان میں جنگل کا قانوں رائج کرنا چاہتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی اقتدار کی جمہوریت کی طرف مکمل منتقلی نہیں ہوئی بلکہ یہ عمل ابھی جاری ہے۔

سفما کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے اخباری اور نجی ٹی وی چینلوں کے مالکان کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ ایسی عسکریت پسند قوتوں، شدت پسندوں اور دہشتگردوں کا بلیک آؤٹ کیا جائے جو صحافتی اداروں اور صحافیوں کو دھمکاتے یا ان پر تشدد کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ جو قوتیں لڑکیوں کے سکول، سی ڈیز اور نائیوں کی دکانیں جلا رہی ہیں اور جو بندوق کے زور پر اپنی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں حکومت ان کا نوٹس لے اور تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے پیر کو لاہور میں صحافیوں پر تشدد اور صحافتی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہیں یہ نہیں کہتے کہ فوج یہ اعلان کردے کہ ہم فاٹا اور قبائلی علاقوں میں نہیں لڑیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد