جنوبی ایشیا: سال میں 15 صحافی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی تنظیم ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن نے سال دو ہزار چھ کو جنوبی ایشیاء کے صحافیوں کے لیے ایک مشکل اور خطرناک دور قرار دیا ہے اور ایک ساؤتھ ایشین پریس کمیشن بنانے کا فیصلہ کیاہے۔ اس فیصلے کا اعلان لاہور پریس کلب میں آزادی صحافت کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمنار میں کیا گیا۔ سیمنار میں اس برس کےدوران صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں ایک مختصر رپورٹ پیش کی گئی۔ سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے کہا کہ پاکستان میں اس برس چار صحافی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جنوبی ایشیاء میں مجموعی طورپر پندرہ صحافی اپنی پیشہ وارانہ ادائیگی کے دوران قتل کیے گئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک جریدے میڈیا مانیٹر کی رابط مدیر صدف اشرف نے کہا کہ اس برس صحافیوں کی پراسرار گمشدگیوں کا ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا، کئی صحافی پراسرار طور پر غائب ہوئے اور بعد میں بازیاب بھی ہوگئے تاہم انہوں نے کہا کہ ایک صحافی منیر مینگل تاحال غائب ہیں۔ صدف ارشد نے بتایا کہ وہ ایک بلوچ ٹی وی شروع کرنا چاہتے تھے اور اپنے کام کے سلسلے میں وہ کراچی پہنچے توانہیں اٹھا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا ان (منیر مینگل) کی بہن نے انہیں بتایا ہے کہ یہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ سینئر صحافی راشد رحمان نے کہا کہ اب صحافیوں کو متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا اور خود اپنی جان کی حفاظت کا بندوبست کرنا ہوگا۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر عارف حمید بھٹی نے کہاکہ چار صحافیوں کی ہلاکت ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صحافیوں کو قتل کیا گیا اب ان کے ورثاء کو پیروی سے باز رکھنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وہ نئی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے لیے اپنے پیشہ وارانہ فرائص کی ادائیگی کرنا مشکل ہی نہیں خطرناک بھی ہوگیا ہے اور کارکن صحافی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ پی یو جے کے صدر نے کہا کہ اخبارات کے مالکان بھی کارکنوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتے بلکہ ان پر افتاد پڑنے کی صورت میں اپنی لاتعلقی ثابت کرنے کی کوشش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ سمینار میں بتایا گیا کہ انہی حالات سے نمٹنے کے لیے اور صحافیوں پر حملوں کے خلاف حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے ’ساؤتھ ایشین کمیشن‘ بنایا جارہا ہے۔ سیفما کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ اس کمشن کی شاخیں جنوب ایشیائی ممالک کے اہم شہروں میں قائم کی جائیں گی۔ کمیشن میں کارکن صحافی، مدیر، انسانی حقوق کی تنظمیوں کے نمائندے اور نشرو اشاعت کے اداروں کے نمائندگان شامل ہونگے۔ یہ کمیشن حکمت عملی ترتیب دینے کے علاوہ جنوبی ایشیاء میں شائع اور نشر ہونے والے صحافیانہ مواد پر بھی نظر رکھے گا اور اس پر رپورٹ جاری کیا کرے گا۔ امتیاز عالم نے بتایا کہ جنوبی ایشیاء میں صحافیوں پر حملوں کے سلسلے میں ایک تفصیلی رپورٹ اکٹھی کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ وہ چار جنوری کو جاری کر دی جائےگی۔ | اسی بارے میں بی بی سی کے دلاور ’رہا‘21 November, 2006 | پاکستان صحافی کے بھائی کے قتل کی تحقیقات30 August, 2006 | پاکستان 2004: صحافیوں کی ریکارڈ ہلاکتیں 06 January, 2005 | صفحۂ اول پاکستانی صحافی کی رہائی کاحکم11 November, 2005 | صفحۂ اول ناظم کے ہاتھوں صحافی کا قتل29 January, 2004 | صفحۂ اول صحافی اسرائیلی حراست میں13 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||