صحافی اسرائیلی حراست میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے تین صحافیوں کو اسرائیلی فوجیوں نے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا۔ بی بی سی ٹیلی ویژن کا عملہ ایک فلسطینی ڈاکٹر کے ساتھ تھا جو نابلوس میں ایک بوڑھی بیمار عورت کے گھر گیا۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس گھر پر اسرائیلی فوجیوں نے قبضہ کررکھا تھا اور ان فوجیوں نے بی بی سی کے عملے کے تین ارکان کو بندوقوں کے زور پر پکڑ کے بٹھا لیا۔ اسرائیل کہتا ہے کہ اس کے فوجی ایک خفیہ مشن پر تھے اور بی بی سی کے عملے کو اس لیے روک لیا گیا کہ اس کے سوا چارہ نہیں تھا ورنہ ان کی خفیہ کارروائی کا راز فاش ہو جاتا۔ اسرائیلی فوجیوں نے بی بی سی کے صحافیوں کے فون اور وڈیو ٹیپ ضبط کرلیے اور کہا کہ جب تک تمہیں چھوڑا نہ جائے کسی طرح کسی سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ بی بی سی کے یروشلم دفتر کے انچارج نے کہا ہے کہ اسرائیل سے باضابطہ شکایت کی جائے گی۔ ادھر اقوام متحدہ میں سیاسی امور کے نائب سیکریٹری جنرل کیئرن پینٹرگاسٹ نے کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ اصلاحات کی جانب بہت سستی سے قدم اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی دونوں عام شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مہینے بھی خون خرابہ جاری رہا۔ پچاس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے اور کم سے کم بیس اسرائیلی زخمی ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||