پاکستانی صحافی کی رہائی کاحکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ایک ہائی کورٹ نے پاکستانی صحافی ساجد بشیر کو واپس پاکستان بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ساجد بشیرگزشتہ چودہ برس سے ریاست راجستھان کی ایک جیل میں قید ہیں- عدالت نے ساجد بشیر کے ساتھ چار دیگر پاکستانی شہریوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا ہے- ان سب کو آئندہ ہفتے رہا کیے جانے کی توقع ہے- ساجد بشیر کا تعلق بہاولپور سے ہے اور وہ 1991 میں پاک بھارت سرحد پر بھٹک کربھارتی راجستھان آ گۓ تھے جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا- 2001 میں ایک مقامی عدالت نے انھیں بارہ برس کی قید کی سزا سنائی تھی لیکن اُس وقت تک وہ دس سال جیل میں کاٹ چکے تھے۔ ساجد بشیر نے بارہ برس کی سزا 20 ستمبر 2003 کو مکمل کر لی تھی لیکن اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔ حقوق انسانی کی تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کی ایک درخواست پر راجستھان ہائی کورٹ نے ایسے تمام غیر ملکی شہریوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے جو اپنی سزا کی مدت کاٹ چکے ہیں- عدالت نے اس بات پرتشویش ظاہر کی کہ ریاست راجستھان میں بہت سے ایسے قیدی موجود ہیں جنہیں سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی رہا نہیں کیا گیا ہے- ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے تمام غیر ملکی قیدیوں کی فہرست عدالت کو فراہم کریں جو اپنی سزائیں کاٹ چکے ہیں- عدالت نے مرکزی حکومت کی سخت سرزنش کرتے ہوۓ کہا کہ غیر ملکی شہریوں کو اس بنیاد پر یرغمال بنا کر نہیں رکھا جا سکتا کہ متعلقہ ملک ہندوستانی قیدیوں کو رہا نہیں کر رہا- ساجد بشیر نے اپنی رہائی کی خبر پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان میں قید بھارتی قیدیوں کی رہائی کے لئے کام کریں گے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی جیلوں میں بڑی تعداد میں ایسے پاکستانی قیدی موجود ہیں جو اپنی سزائیں پوری کرنے کے باوجور رہا نہیں کیے گئے ہیں- | اسی بارے میں ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘01 May, 2004 | پاکستان پاک، بھارت قیدیوں کا تبادلہ30 August, 2004 | پاکستان بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار 12 July, 2005 | پاکستان قیدیوں کا تبادلہ شروع12 September, 2005 | پاکستان سربجیت کی درخواست واپس29 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||