’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت میں تعلقات بہتر ہونے کے بعد قیدیوں کے تبادلےکا ایک سلسلہ جاری ہے لیکن ان ہائی پانے والوں میں سات پاکستانیوں کا ایک ایسا گروپ بھی ہے جو بھارت کی قید سےتو پانچ دسمبر کو رہا ہوگیا تھا لیکن آزادی اسے تقریبا پانچ ماہ بعد یکم مئی کو مل سکی۔ رہائی پانے والے ان کے لواحقین کے مطابق یہ لوگ بھارت سے آنے کے بعد پاکستان میں قید کاٹتے رہے ہیں۔ ایک قیدی نور محمد کی بیوی شہناز کوثر نے کہا کہ ’بھارت نے انہیں پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام میں قید کیا تھا اور پاکستانی حکام کو ان کے بھارتی جاسوس ہونے کا شبہ تھا۔‘ ایک اور قیدی کے بھائی کامران نے بتایا کہ طویل انتظار کے بعد پرسوں قیدی اپنے گھروں کو لوٹے تو ان کے ساتھ کچھ سرکاری اہلکار بھی تھے اور ان کے ہمراہ سنیچر کی صبح شوکت علی اور محمد انور وٹو ان سے ملنے آئے تھے ان کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے۔ جو افراد واہگہ کے راستے لاہور میں پاکستانی حکا م کے حوالے کیے گئے ان میں بہاولپور کے نور محمد، بہاولنگر کے مشاہد کریم، نذیر احمد، محمد اسماعیل، جہلم کے رہائشی شوکت علی، اوکاڑہ کے محمد نواز اور پاکپتن کے محمد انور شامل ہیں۔ ان افراد کو بھارتی حکام نےواہگہ باڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا تھا۔لیکن انہیں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کرنے یا ان سے ملاقات کرانے سے قبل ہی انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ کئی برس سے ان کی واپسی کی آس لگائے رکھنے والے ان کے رشتہ دار پانچ ماہ تک دیوانہ وار ان کی رہائی کے لیے تک وہ تھانے اور رینجرز اور فوجی حکام کے دفاتر کے چکر لگاتے رہے تھے۔
نور محمد کی تیرہ سالہ اکلوتی بیٹی ساجدہ نے اپنی زندگی میں پہلی بار سنیچر کو والد کی شکل دیکھی۔ جب وہ پیدا ہوئی تھی تو اس کے والد کوبھارت میں قید ہوئے سات ماہ ہوچکے تھے۔ چند روز قبل ساجدہ اپنے والد سے ملنے کے لیے اپنی والدہ شہناز کوثر اور چچا شیر محد کے ہمراہ لاہور آئی تو ان کی مجھ سے بھی بات ہوئی۔ نور محمد کی اہلیہ شہناز نے بتایا کہ ان کے شوہر شادی کے چند ماہ بعد ہی بھارت چلے گئے تھے اور انہوں نے ان کے زندہ ہوتے ہوئے ایک بیوہ کی سی زندگی کاٹی ہے۔ اس کے بھائی شیر محمد نے بتایا کہ انہیں سات دسمبر کی رات دس بجے مقامی تھانے نے یہ رپورٹ دیدی تھی کہ وہ پاکستان آگئے ہیں۔ بہاولپور سے خفیہ پولیس کے اہلکاروں نے انہیں ایک پرچی دی جسے لے کر وہ واہگہ گئے تو اطلاع مل گئی کہ وہ لاہور میں سی ایم ایچ (ملٹری ہسپتال ) کے نزدیک واقع انٹیلجنس یونٹ کے پاس ہیں۔ وہ اس یونٹ گئے تو پہلے تو فوجی حکام نے ان کی موجودگی ماننے سے انکار کر دیا بعدازاں جب وہ روئے پیٹے تو پھر دور سے ہی انہیں ایک بار نور محمد کو دکھا دیا گیا تھا۔اس کے بعد سے کسی کو انہیں نہیں ملنے دیا گیا۔
نور محمد کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بتایاگیا تھا کہ نور محمد پر بھارتی جاسوس ہونے کے شبہ نے انہیں پونے پانچ ماہ تک جیل میں قید رکھا۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ لاہور کے افسر میجر شاہد نے کہاکہ بھارت سےجو بھی قیدی رہا ہوکر آتے ہیں انہیں رینجرز حکام چند روز تک اپنے پاس تو رکھتے ہیں کیونکہ خطرہ ہوتا ہے کہ یہ اب کہیں دوسرے ملک کے ایجنٹ تو نہیں بن گئے ان کے مطابق یہ پوچھ گچھ ضابطے کا حصہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||