| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیدی بچے گھر واپس
آٹھ پاکستانی بچے جو سرحد پار کر کے ہندوستان جانے کے الزام میں ہندوستان میں قید تھے آج رہا ہوکر لاہور پہنچ گۓ۔ لاہور میں رینجرز کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھوں بچے سہ پہر اڑھائی بجے واہگہ پر پاکستانی حکام کے حوالے کیے گۓ۔ ان بچوں میں سے سات کا تعلق سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے مٹھی شہر سے اور ایک کا اسلام آباد سے ہے۔ ان میں سے سات ہندو اور ایک مسلمان ہے۔ ان کے نام سانو، رام جی کول، پریم جی کول، ہیرا لال، کرشن، دنیش کمار، ہیرا اور محمد شاہین ہیں۔ ان سب کی عمریں چودہ پندرہ سال کی ہیں۔ بچوں کو پاکستان کے سیکیورٹی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور سوائے ایک کے دوسرے بچوں کے لواحقین انھیں لینے کے لیے نہیں آئے۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے رکن راؤ عابد حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ چار ستمبر کو ٹائمز آف انڈیا نے ان بچوں کی تصاویر شائع کی تھیں اور یہ رپورٹ کیا تھا کہ سات پاکستانی بچے جو غیر قانون طور پر سرحد پار کرکے ہندوستان آگۓ تھے ہندوستان کے صوبہ پنجاب کی فرید کوٹ جیل میں ہیں۔
راؤ عابد حمید نے کہا کہ ان میں ایک بچہ دنیش کمار سولہ سال کا ہے اور اس کا والد چمن لال عمر کوٹ سے اسلام آباد منتقل ہوچکا ہے جہاں وہ سوپر مارکیٹ میں مہران ہینڈی کرافٹ کی دکان پر سیل مین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے والد نے انسانی حقوق کمیشن کو بتایا تھا کہ اس کا بیٹا میٹرک میں دوسری بار فیل ہونے پر گھر والوں کے ڈر سے پچھلے سال مئی میں بھاگ گیا اور سرحد پار کرکے ہندوستان چلا گیا جہاں گجرات میں ان کے رشتے دار رہتے ہیں۔ راؤ عابد کے مطابق دنیش کمار نے واہگہ سے سرحد پار کی تھی اور وہ پہلے امرتسر جیل میں رہا اور پھر فرید کوٹ جیل میں بھیج دیا گیا۔ اس کے والدین نے ہندوستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا اور اس کا اتا پتا معلوم کیا۔ انسانی حقوق کمیشن کے، جو ہندوستان اور پاکستان میں ایک دوسرے کے قید شہریوں کی ملک واپسی کے لیے کوششیں کرتا ہے ، رکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ آنے کے بعد ان بچوں کے گھر والوں کو خط لکھے تو ان میں سے اکثر کا اتا پتا نہیں معلوم ہوسکا اور ان کے والدین کی تلاش نہیں ہوسکی جو ان بچں کی رہائی میں بڑی رکاوٹ تھی۔ راؤ عابد کا کہنا ہے کہ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر میں نو بچے نظر آرہے ہیں جن میں سے دائیں طرف کھڑا لڑکا لاہور کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھوج لگانے پر معلوم ہوا ہے کہ وہ گرین ٹاؤن لاہور کا رہنے والا ہے اور اس کا نام اشفاق احمد اور اس کے والد کا نام اللہ دتہ ہے۔ اشفاق کے والد کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے سال گم ہوا تھا اور انھیں خط ملا تھا کہ اسے رہا کرنے کے لیے دو لاکھ ادا کیے جائیں لیکن اب تصویر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان میں قید ہے۔ انسانی حقوق کمیش اس کی رہائی کے لیے بھی کوشش کررہا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے رکن کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ جو بچے سرحد پار کرجاتے ہیں ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کو بظاہر پیشہ ور لوگ سرحد پار کراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال پہلے ان کے ادارہ سے ایک ایسے لڑکے سلیم اشرف نے رابطہ کیا جو پندرہ سال پہلے کیرالہ میں اپنے گھر سے بھاگ کر امرتسر پہنچا تو اسے ایک گروہ ورغلا کر پاکستان کی سرحد پار کرادی۔ یہاں لاہور میں اس لڑکے کو ایک نیک آدمی مل گیا جس نے اسے پالا پوسا اور میٹرک تک تعلیم دلوائی۔ تب اس نے اپنے والدین کو خط لکھا اور انسانی حقوق کمیش سے رابطہ کیا اور اس طرح وہ ہندوستان واپس جا سکا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||