BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کے دلاور ’رہا‘

دلاور خان وزیر
دلاور خان کی رہائی کے لیے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا
بی بی سی کے پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے نامہ نگار دلاور خان وزیر منگل کی شام اچانک اسلام آباد میں واقع اپنے دفتر پہنچ گئے۔

دلاور خان وزیر نے بتایا کہ پیر کے روز جب وہ اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم اپنے بھائی سے ملاقات کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کے لیے پیر ودہائی کے بس اڈہ کے لیے ٹیکسی میں روانہ ہوئے تو انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس ’نامعلوم‘ افراد نے روک لیا۔

ان کے مطابق ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے انہیں لاتیں اور مکے مارتے ہوئے گاڑی میں ڈالا گیا اور ایک نامعلوم مقام پر لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا کاروں ان سے صحافتی امور کے بارے میں سوالات کیئے کہ وہ باجوڑ کیسے پہنچے اور جنوبی وزیرستان سے خبریں کیسے حاصل کرتے ہیں۔

دلاور خان نے بتایا کہ ان سے مار پیٹ بھی کی گئی اور منگل کی شام کو انہیں اسلام آباد میں ایک جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔ جہاں سے وہ لفٹ مانگ کر ٹیکسی سٹینڈ تک پہنچے اور وہاں سے وہ بی بی سی کے اسلام آباد دفتر آئے۔ انہیں جنگل سے دفتر پہنچنے میں بیس سے پچیس منٹ لگے۔

دلاور کی گمشدگی اور رہائی
 دلاور خان وزیر کسی حکومتی ادارے کی تحویل میں نہیں تھے۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات

ان کی رہائی کے بعد پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے جنرل سیکریٹری مظہر عباس نے کہا کہ دلاور کی بازیابی فوراً اس لئے ممکن ہو پائی کیونکہ وہ بی بی سی اور روزنامہ ڈان جیسے بڑے اداروں سے وابستہ تھے اور انہوں نے رہائی کے لیے ’کافی شور‘ مچایا۔

ان کے مطابق اگر تمام میڈیا کے ادارے اپنے صحافیوں کے لیے ایسا احتجاج کریں تو شاید کسی صحافی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح اسلام آباد میں سخت سیکورٹی کے باوجود دن دیہاڑے پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے دیدہ دلیری سے اغوا کیا گیا یہ کارروائی انہیں انٹیلی جنس ایجنسیز کی لگتی ہے۔

لیکن اس بارے میں وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ دلاور خان وزیر کسی حکومتی ادارے کی تحویل میں نہیں تھے۔

دریں اثناء صحافیوں کی مقامی تنظیم ’آر آئی یو جے‘ کی اپیل پر صحافیوں نے منگل کی شام گئے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی پریس گیلری سے بائیکاٹ کیا۔

اس دوران حزب مخالف کے رہنما رضا ربانی نے ایوان کی توجہ دلائی کہ دو روز سے بی بی سی اور روزنامہ ڈان کے نمائندہ دلاور خان وزیر کو اسلام آباد میں سخت سیکورٹی کے باوجود اغوا کیا گیا ہے اور حکومت کوئی جواب نہیں دے رہی۔

اس پر وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ وہ بدھ کو دلاور خان کے متعلق ایوان میں رپورٹ پیش کریں گے کہ حقائق کیا ہیں۔ وزیر کو چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ صحافیوں کے پاس جائیں اور انہیں اعتماد میں لیں۔ لیکن وہ صحافیوں کے پاس نہیں آئے۔

صحافیوں کے ایک سرکردہ مرکزی رہنما سی آر شمسی اور مقامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل طارق عثمانی نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز بھی ایوان کی گیلری سے بائیکاٹ جاری رکھنے اور پارلیمان کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا۔

دن بھر مختلف وزراء اور پولیس حکام سے رابطہ کیا جاتا رہا لیکن شام گئے تک انہوں نے دلاور خان وزیر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ تحقیقات کرنے والے ڈی ایس پی جمیل ہاشمی نے کہا کہ نامعلوم اغوا کاروں کے خلاف مقدمہ درج تو کیا گیا ہے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دلاور کا ’اغواء‘
دلاور کی گمشدگی پر اخبارات میں کیا چھپا؟
دلاور کی گمشدگی
بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کی تشویش
اسی بارے میں
ہم کچھ نہیں کہہ سکتے: وزراء
21 November, 2006 | پاکستان
کسی کے پاس جواب نہیں
21 November, 2006 | پاکستان
صحافتی تنظیموں کی تشویش
21 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد