صحافتی تنظیموں کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقےجنوبی وزیرستان میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی پر دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم کینیڈین جرنلسٹس فار فری ایکسپریشن (سی جے ایف ای) نے دلاور خان وزیر کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کو غیر معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔ سی جے ایف ای کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عینی گیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس سال صحافیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات انتہائی سنگین ہیں اور اس طرح کی کارروائیاں ہوتی رہیں تو اس کے بڑے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان میں کام کرنے والے صحافیوں کے بارے میں حکومت کو خصوصی طور پر توجہ دینے کی اپیل کی اور پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافی دلاور وزیر کی بازیابی کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ امریکہ کی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ (سی پی جے) نے پاکستان کے صحافی کی گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دلاور خان وزیر کی گمشدگی کے واقعہ کو خصوصی توجہ دے کر اس کی مکمل چھان بین کرائے تاکہ صحافی کا پتہ چلایا جاسکے کہ وہ کہاں ہیں؟۔ سی پی جے کے مطابق دلاور وزیر خان کو پہلے ہی خطرناک نتائج کی کئی بار دھمکیاں مل چکی تھیں اور اس سال تیس اگست کو ان کے چھوٹے بھائی کا قتل بھی اس سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ سی پی جے کے مطابق اس سال پاکستان میں کئی صحافی کئی دن اور بعض مرتبہ کئی ماہ تک پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے جو کہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ سی پی جے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئیل سمون نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی حکومت کو فوری طور پر اس بات کا پتہ چلانا ہوگا کہ صحافی دلاور وزیر حکومتی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تحویل میں ہے یا نہیں۔اگر وہ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں تو پھر ان کو حراست میں لینے کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔ فرانسیسی صحافتی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی کینیڈا کی انچارج ایملی جیکوا نے بی بی سی کو بتایا کہ دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی سے پہلے پاکستان میں صحافیوں پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کے واقعات دنیابھر میں آگ کی طرح پھیل رہے ہیں۔ انٹر نیٹ کے اس دور میں دنیا بھر کو معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان میں صحافی اس پیشے کو سرانجام دینے کے لیے سخت ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی صحافت دشمن کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دلاور خان وزیر اور دیگر اغواء شدہ صحافیوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ جلاوطن صحافیوں کی عالمی تنظیم کی صدر مریم الاقوامی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار پہلے ہی دنیا کے ان خطرناک ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافت کو سخت حالات کا سامنا ہے اور دلاور وزیر کی پراسرار گمشدگی کا واقعہ حکومت کے لیے نیا چیلنج ہوگا۔ حکومت پاکستان ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کی بجائے سنجیدگی سے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے بصورت دیگر اس کے بڑے سنگین نتائج سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی صحافی حیات خان کے بیہمانہ قتل نے یہ ثابت کردیا تھا کہ پاکستانی حکومت کہاں تک صحافیوں کی خیر خواہ ہے۔ | اسی بارے میں حکومت دلاور کو بازیاب کرائے: مشترکہ قرارداد21 November, 2006 | پاکستان بی بی سی کے نامہ نگار اسلام آباد سے اچلانک لاپتہ20 November, 2006 | پاکستان صحافی کے بھائی کے قتل کی تحقیقات30 August, 2006 | پاکستان دلاور وزیر: ابھی تک کوئی سراغ نہیں20 November, 2006 | پاکستان لاپتہ صحافی: کسی کے پاس جواب نہیں 20 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||