BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 21:46 GMT 02:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حل سب کے لیے قابل قبول ہو‘

جنوبی ایشیا کی تنظیم سیفما نے محبوبہ مفتی کو مدعو کیا تھا
لاہور میں جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محترمہ محبوبہ مفتی نے صحافیوں اور دانشوروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا وہی حل کامیاب ہوگا جو کشمیر کے تینوں خِطّوں یعنی جموں، وادی اور لداخ کی عوام کی الگ الگ امنگوں پر پورا اُترسکے۔

محبوب مفتی نے اپنے خطاب میں مظفر آباد کےلئے آزاد کشمیر کا لفظ استعمال کیا اور اس امر کو صورتِ حال کی بہتری قرار دیا۔

ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے بینر تلے منعقد ہونے والے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اور خود مختاری کا مطلب آج سارح دنیا میں تبدیل ہو رہا ہے اور آج کے زمانے میں معاشی اور اقتصادی آزادی کے بغیر ہیئتِ حاکمہ کا تصوّر نا ممکن ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں کشمیر میں شدت پسندی کا خاتمہ ہونا چاہیئے اور وہاں سے بھارتی فوجوں کا اجتماع بھی ختم ہونا چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بھارتی اور پاکستانی حصّے میں آمد ورفت کی آزادی ہونی چاہیئے اور کشمیریوں کو یہ موقع ملنا چاہیئے کہ وہ آس پاس کی دنیا سے آزادانہ تجارتی اور ثقافتی روابط قائم کر سکیں۔

سیفما کے سربراہ امتیاز عالم اور حقوقِ انسانی کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد