BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 February, 2009, 22:52 GMT 03:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیرزادہ کو ہم نےمقرر نہیں کیا: وزیر

شریف الدین پیرزادہ
شریف الدین پیرزادہ کو سفیرِ عمومی بنا کر وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے
موجودہ حکومت میں مشہور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ کے سفیرِ عمومی اور ان کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہونے یا نہ ہونے کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

منگل کے روز وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور سینیٹر بابر اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے سید شریف الدین پیر زادہ کی بطور سفیرِ عمومی نہ تو تقرری کی ہے اورنہ ہی موجودہ حکومت میں ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ ہے ۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت میں نہ صرف سید شریف الدین سفیر عمومی ہیں بلکہ انھیں وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ دستاویزات میں دیگر سترہ نام بھی شامل ہیں جن کا درجہ وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے برابر ہے۔ جبکہ کاروباری شخصیت رفعت محمود بھی سفیرِ عمومی ہیں اوران کا درجہ وزیر کے برابر ہے ۔

واضع رہے کہ سیدشریف الدین پیرزادہ کو سفیرِ عمومی انیس سو پچانوے میں پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔ اور تاحال اسی عہدے پر فائز ہیں ۔

دوسری جانب شریف الدین پیرزادہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’ سفیرِ عمومی اور وفاقی وزیر کے برابر درجہ ہونا ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کر سکتے ہیں ۔’

ایک سوال کے کہ وفاقی وزیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت آپ کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے تو اس پر انھوں نے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ کسی کے بیان پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں ۔

قانون دان اکرم شیخ نے جو میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں سفیر عمومی رہ چکے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفیر عمومی کو وہ تمام سرکاری سہولیات میسر ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر کو فراہم کی جاتی ہیں جس میں سرکاری گھر، گاڑی اور دیگر سہولیات شامل ہوتی ہیں ۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ سید شریف الدین پیرزادہ کو کون سی سرکاری سہولیات میسر ہیں ۔

واضع رہے کہ پاکستان میں قانون دان سید شریف الدین پیر زداہ ایک متنازعہ شخصیت ہیں جو جنرل ایوب سے لیکر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تحفظ دینے کے لیے قانونی معاونت کر چکے ہیں اس کے علاوہ وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے۔

لعل خان ’وزیرِ خصوصی اقدام‘
میرے پاس تو بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں: وزیر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد