BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2008, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی معیشت، آخر بینکر ہی کیوں؟

ترین
شوکت ترین کا شوکت عزیز کی طرح تجربہ بینکنگ شعبے سے شروع ہو کر کم و بیش یہیں ختم ہو جاتا ہے
وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین آج کل پاکستان کو ایک اور معاشی بحران سے نکالنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک طرف اگر وہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب وہ اس کے چنگل سے بچنے کی خاطر سعودی عرب جیسی بظاہر پاکستان دوست حکومتوں سے امداد کی توقع کر رہے ہیں۔

بعض مبصرین کے خیال میں عارضی بنیادوں پر پانچ برس تک ملکی معیشت چلانے کے بعد اب ابتر صورتحال کی بہتری کے لیے پھر ایک اور سابق سٹی بینک اہلکار کی خدمات کو بروئےکار لایا جا رہا ہے۔

شوکت عزیز کی طرح شوکت ترین کا ماضی میں تعلق سٹی بینک سے رہا ہے۔ وہ پاکستان کے علاوہ تھائی لینڈ میں اس امریکی بینک کے سربراہ کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وزارت داخلہ کی طرح اہم ترین وزارت خزانہ بھی موجودہ حکومت ایک غیرمنتخب شخص کے ذریعے چلا رہی ہے۔ دونوں ہی مشیر کابینہ کے اس وقت متحرک ترین ارکان قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

شوکت ترین بھی بینکنگ کے کامیاب ترین اہلکاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا بینکنگ کے شعبے میں تجربہ کافی وسیع ہے۔ وہ یونین، حبیب اور سٹی بینک کی سربراہی کے علاوہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی بھی قیادت کرچکے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے بھی صدر رہ چکے ہیں۔

اس اعتبار سے ان کا شوکت عزیز کی طرح تجربہ بینکنگ شعبے سے شروع ہو کر کم و بیش یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ تو آخر کیا پاکستانی معاشی مشکلات کا خاتمہ کسی بینکر کے ذریعے ہی ممکن ہے یا اس کے لیے کسی اور تجربے کی بھی ضرورت ہے؟

ایک معاشی ماہر نے تو اس سوال کو ذاتی نوعیت کا قرار دے کر اس کا جواب دینے سے انکار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ حکومت کی صوابدید پر ہے کہ وہ جسے چاہے وزیر مقرر کرے۔

ویسے یہ تو ہر حکومت کی صوابدید پر ہے کہ وہ جسی چاہے وزیر مقرر کرے لیکن ایسی تقرری کے لیے ہمیشہ تجربے کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک بینکر ہی کو کیوں چنا گیا ہے۔ کیا ایک اچھا معاشی ماہر زیادہ بہتر نہ ہوتا؟

سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ظاہر ہے وہ دستیاب افراد میں شاید بہترین انتخاب ہوں اس لیے انہیں چنا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے آنے سے معاملات آگے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ ’اب تک تو وہ ٹھیک چل رہے ہیں۔ کم از کم اب کسی شخص کے پاس چارج تو ہے۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ آیا جو بینکرز ملکی معیشت سدھارنے کے لیے لائے جا رہے ہیں ان کا سیاسی قدکاٹھ اور سیاسی قبولیت کتنی ہے؟ ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر عابد قیوم سولہری کہتے ہیں کہ نہ تو شوکت عزیز کا تھا اور نہ ہی شوکت ترین کا کوئی سیاسی قد کاٹھ نظر آتا ہے۔

تضاد
 ایک جانب تو ہم فروری سے قبل حکومت کی پالیسیوں کو موجودہ بحران کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو دوسری جانب آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے کیس اس بنیاد پر تیار کر رہے ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں معیشت بڑی اچھی رہی اور عالمی معاشی بحران کی وجہ سے قرضے کے طلبگار ہیں۔ یہ ہماری قیادت کا تضاد ہے۔
عابد قیوم

’اس سے بعض لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ اگر سابق صدر پرویز مشرف کی ہی پالیسیاں چلانی تھیں تو پھر یہ ساری جدوجہد کس مقصد کے لیے کی گئی۔ ایک جانب تو ہم فروری سے قبل حکومت کی پالیسیوں کو موجودہ بحران کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو دوسری جانب آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے کیس اس بنیاد پر تیار کر رہے ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں معیشت بڑی اچھی رہی اور عالمی معاشی بحران کی وجہ سے قرضے کے طلبگار ہیں۔ یہ ہماری قیادت کا تضاد ہے۔‘

البتہ سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز مشیر خزانہ کے مؤقف میں کوئی تضاد نہ دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ مستقبل کا سوچا جائے اور ماضی کی الزامات کی جنگ کو ترک کر دیا جائے۔ وہ اس حد تک متقق ہیں کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور خوراک کی کمی اس حکومت کو پچھلی حکومت سے ملی تھیں جن سے مسائل میں اضافہ ہوا۔ ’اب عالمی بحران سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔‘

ڈاکٹر عابد سے دریافت کیا گیا کہ کیا ایک بینکر کو زراعت اور صعنتی شعبے کو درپش مسائل یا ان کی خصوصی ضروریات کا ادراک ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا سیاسی پس منظر ہوتا تو شاید انہیں یہ باتیں بھی زیادہ بہتر معلوم ہوتیں اور چیلنجز کا بھی معلوم ہوتا۔

’وہ شاید پوری طرح آگاہ نہیں ہیں کہ اصل چیلنج فسکل اور فوڈ کرائسس ہیں۔ اس میں خوراک کے مسئلے کو ہم بہت آسانی کے ساتھ زراعت پر توجہ دے کر حل کرسکتے ہیں۔‘

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک بینکر اچھا مشیر خزانہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن اب تک کے بینکرز میں کمی ان کے سیاسی قدکاٹھ اور قبولیت کی ہے۔ منتخب رکن کے وزیر بننے سے کم از کم یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کا اپنے حلقے سے رابطہ رہتا ہے، وہاں کے مسائل سے آگاہ رہتا ہے۔

سیاسی قدکاٹھ
 ایک بینکر اچھا مشیر خزانہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن اب تک کے بینکرز میں کمی ان کے سیاسی قدکاٹھ اور قبولیت کی ہے۔ منتخب رکن کے وزیر بننے سے کم از کم یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کا اپنے حلقے سے رابطہ رہتا ہے، وہاں کے مسائل سے آگاہ رہتا ہے۔

پاکستان میں بینکنگ کا شعبہ معیشت کے ان شعبوں میں شامل ہے جس نے گزشتہ برسوں میں حالات جیسے بھی رہے ہوں ترقی کی ہے۔ ایک ادارے نے گزشتہ دنوں اپنی رپورٹ میں بینکوں پر ایک ’کارٹیل‘ کے ذریعے اپنے کھاتے داروں کو لوٹنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کئی لوگ پوچھتے ہیں کہ جب معیشت نے خاطر خواہ ترقی نہیں کی تو پھر بینک کیسے پھل پھول رہے ہیں۔

دوسری جانب بینکنگ شعبے سے تعلق رکھنے والے پچپن سالہ شوکت ترین کےملک کے سب سے بڑے ذریعے معاش کے بارے میں ان کے متنازعہ خیالات پر خود پیپلز پارٹی کے اندر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سندھ سے پارٹی کے اراکین نے وزیر اعظم کی موجودگی میں ان کے اس مؤقف پر تنقید کی کہ زرعی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جانا چاہیے اور یہ کہ کسان تو اس ملک کی ’مقدس گائے‘ بنے بیٹھے ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ شوکت عزیز اور شوکت ترین جیسے اہلکار بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ کے تحت لائے جاتے ہیں تاکہ ان کے ایجنڈے کو یہ آگے بڑھا سکیں۔ سول سوسائٹی اور ان ادارے کے خلاف مہم چلانے والے خادم حسین کہتے ہیں کہ یہ سب گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ملک میں ہو رہا ہے لیکن اب وہ اس وجہ سے اس کے خلاف شور ڈال رہے ہیں کہ یہ ایک جمہوری حکومت ہے۔ ’غیرملکی مالیاتی اداروں کی شرائط پر کوئی ملک آج تک ترقی نہیں پاسکا ہے۔‘

شوکت ترین کو نئے عہدے پر آئے تقریباً ایک ماہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک یہ سوال بھی واضع نہیں ہوسکا ہے کہ ان کی تعیناتی کی وجہ ان کی کارکردگی تھی، کسی اعلٰی شخصیت یا بین الاقوامی ادارے کے کہنے پر لایا گیا یا معاملہ محض ذاتی پسند یا ناپسند کا تھا۔

وجہ کچھ بھی ہو اس وقت سترہ کروڑ افراد کا معاشی مستقبل ان کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔

معیشتمعیشت اور بحران
’پاکستانی معیشت پر چندگروہوں کا قبضہ‘
معیشتمستحکم سے منفی
پاکستان کا عالمی معاشی درجہ رو بہ زوال
پٹرولدس فیصد پٹرول
قیمت میں کمی کا فائدہ دس فیصد سے کم کو
نوید قمراقتصادی سروے
’پاکستانی معیشت کے لیے اچھا سال نہیں تھا‘
معیشتسٹیٹ بینک رپورٹ
پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد