کابینہ کے پوشیدہ وزیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِاعظم، وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، وفاقی مشیروں اور وزیرِاعظم کے معاونین سمیت مخلوط پاکستانی کابینہ اس وقت بیاسی اراکین پر مشتمل ہے۔ ان میں سے چالیس وزراء اور اٹھارہ وزرائے مملکت کو تو باقاعدہ کابینہ محکمے الاٹ ہوئے ہیں اور حکومتی امور پر نظر رکھنے والے تقریباً سب ہی ماہرین ان وزراء اور وزرائے مملکت کو ان کے محکموں سمیت جانتے ہیں لیکن اٹھارہ اصحاب ایسے بھی ہیں جنہیں زیادہ تر لوگ وفاقی وزراء یا وزرائے مملکت کی حیثیت سے نہیں بلکہ دیگر حیثیتوں کے سبب جانتے ہیں۔ مثلاً عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کے بارے میں کتنے لوگ جانتے ہیں کہ انہیں وفاقی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی سرکاری محکمہ نہیں ہے۔ اسی طرح جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطا الرحمان وفاقی وزیرِ سیاحت ہیں لیکن خود مولانا فضل الرحمان جو قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کشمیر کے سربراہ ہیں انہیں بھی وفاقی وزیر کا درجہ اور پروٹوکول حاصل ہے۔ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک ہر فوجی حکمران پر آئینی بھول بھلیاں آسان کرنے والے قانونی جادوگر سید شریف الدین پیرزادہ کو بھی زرداری۔گیلانی حکومت نے سفیرِ عمومی بنا کر وفاقی وزیر کا درجہ دے رکھا ہے۔
شریف الدین پیرزادہ صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات کو غیر متوازن بنانے والی اس سترہویں آئینی ترمیم کے بھی روحِ رواں ہیں جسے ختم کرنے کے لیے موجودہ حکومت نے خود کو اخلاقی طور پر پابند کر رکھا ہے۔ مشرقی پاکستان کے چکمہ قبائل کے سربراہ راجہ تری دیورائے جنہوں نے بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اور انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیرِ سیاحت بنایا گیا تھا۔موجودہ حکومت نے بھی انہیں وفاقی وزیر کا درجہ دیا ہوا ہے۔تاہم ان کے پاس کوئی محکمہ نہیں ہے۔ اسی طرح رحمان ملک پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں۔ اسی تکنیکی دشواری کے سبب انہیں وزیرِاعظم کا مشیرِ داخلہ بنایا گیا۔ انہیں بھی وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین وزارتِ پٹرولیم کے وفاقی مشیر اور قومی تعمیرِ نو بیورو کے اعزازی چیئرمین کی حیثیت میں وفاقی وزیر کے درجے پر فائز کیے گئے ہیں۔ شوکت ترین وزیرِاعظم کے مشیرِ خزانہ کے طور پر وفاقی وزیر کے برابر قرار دیے گئے ہیں۔
جبکہ اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ ، زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی آباد کاری کے محکمے ایرا کے سربراہ الطاف سلیم، فیڈرل لینڈ کمیشن کے اعزازی چیئرمین پیر فضل علی شاہ، صدر آصف علی زرداری کے سیکرٹری جنرل سلمان فاروقی ، سفیرِ عمومی خالد احمد ، سرکاری اصلاحات کے قومی کمیشن کے اعزازی سربراہ چوہدری عبدالغفور ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اعزازی چیئرمین فرزانہ راجہ اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیرمین سردار آصف احمد علی مکمل وفاقی وزیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی بہبود سے متعلق وزیرِاعظم کی معاونِ خصوصی شہناز وزیر علی ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود، سائنس و ٹیکنالوجی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق احمد ، سینیٹ میں جمیعت علمائے اسلام کے چیف وھپ مولانا عبدالغفور حیدری، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا اور سفیرِ عمومی رفعت محمود کو وزیرِ مملکت کا درجہ حاصل ہے۔ قطع نظر اسکے کہ مذکورہ بالا فہرست میں کون کون ، کس کس عہدے پر کتنی اہلیت کے سبب وزارتی مرتبے و مراعات کا حقدار ہے ۔ہٹو بچو کی صدا اور جھنڈے والی گاڑی کسے بری لگتی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان یا کابینستان کے معنی؟04 November, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت، آخر بینکر ہی کیوں؟11 November, 2008 | پاکستان چار مزید وزراء، تریسٹھ کی کابینہ26 January, 2009 | پاکستان ’ایک مکان میں دو وزراء رہیں‘28 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||