BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 February, 2009, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاست میں آمد پر بات نہیں‘

جنرل(ر) مشرف
جنرل(ر) مشرف سیاست میں آمد کے موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں
دس برس تک اقتدار کے گرم و سرد دیکھنے والے پرویز مشرف صدارتی اور فوجی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کے بعد بھی خوش باش ہیں۔

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے چک شہزاد میں ان کا فارم ہاؤس تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس انتظار میں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں۔

گو سابق صدر نے گزشتہ ہفتے آرمی ہاؤس میں بی بی سی کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات میں یہ تاثر دیا کہ انہیں انہیں شدت پسندوں کی جانب سے جان کا خطرہ بدستور موجود ہے، لیکن انکے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات کی سختی میں بہت حد تک کمی آ گئی ہے۔

اب نہ جامہ تلاشی ہے تو نہ گاڑی کے ٹرنک کی چیکنگ، نہ شناختی دستاویزات طلب کیے جاتے ہیں اور نہ ہی موبائل فون اور دیگر آلات لے جانے سے منع کیا جاتا ہے۔

آرمی ہاؤس میں داخلے کے گیٹ پر سب سے اہم حفاظتی حصار ’ریکسونا’ اور ’روما’ پر مشتمل ہے اور سیاہ رنگ کی یہ کتیائیں دھماکہ خیز مواد سونگھنے اور جانچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اپنے تربیتی افسر کے ہمراہ اندر داخل ہونے والی گاڑیوں کے گرد ان کتیاؤں کا ایک چکر پہلی اور بظاہر آخری حفاظتی رکاوٹ ہے۔

آرمی ہاؤس کے رہائشی علاقے کے احاطے میں گاڑی کھڑی کریں تو خانساماں سابق صدر کے پسندیدہ کمرے کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ اس روز موسم ابر آلود تھا اور کچھ دیر قبل ہی زور کی بارش ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ آج صاحب اس موسم کی مناسبت سے بنے ہوئے پسندیدہ کمرے میں ملاقاتیں کریں گے۔

 پرویز مشرف اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے فیصلوں پر بظاہر پشیمان نہیں۔ جب وہ اپنے ان اہم فیصلوں کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے دور میں متنازعہ قرار دیے گئے، تو لہجے میں آج بھی شک کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔

آرمی ہاؤس کے وسیع و عریض لان کے بیچوں بیچ شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیوں والا یہ لاؤنج ، اس کا اطالوی طرز کا فرنیچر ، بیالیس انچ کی ٹیلی وژن سکرین، اس ٹی وی سیٹ سے ملتے جلتے رنگوں کے ساؤنڈ سپیکرز اور صوفہ کشن، ہوانا سگار کی خوشبو اور ماضی قریب کی یادگار فلموں کی ڈی وی ڈیز مکین کے ذوق کا پتہ دیتے ہیں۔

پرویز مشرف کی مہمانوں سے ملاقات کے لیے آمد بھی ماضی سے مختلف ہوتی ہے۔ نہ عقابی نظروں والے کمانڈوز محافظ ،نہ ہٹو بچو کے نعرے۔ کاسنی رنگ کے سویٹر میں سابق صدر پہلی نظر میں ہی، ہشاش بشاش، صحت مند اور مطمئن دکھائی دیے۔

جنرل(ر) مشرف کا فارم ہاؤس تکمیل کے قریب ہے

اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ پرویز مشرف اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے فیصلوں پر بظاہر پشیمان نہیں۔ جب وہ اپنے ان اہم فیصلوں کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے دور میں متنازعہ قرار دیے گئے، تو لہجے میں آج بھی شک کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔

نواز شریف کی برطرفی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کا فیصلہ ، لاپتہ افراد کا معاملہ، بلوچستان میں فوجی کارروائی اور اس دوران بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت، چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی، تین نومبر کی ایمرجنسی، پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت اور این آر او کا اجراء، سابق صدر ان تمام فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے مدلل انداز میں سینکڑوں تاویلیں پیش کرتے ہیں۔

لیکن پرویز مشرف اپنے ایک دکھ کا بھی بر ملا اظہار کرتے ہیں اور وہ ہے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال اور اسکے مضمرات۔ بقولِ مشرف ’پاکستان میں شدت پسندی کے عمل میں جس طرح تیزی آرہی ہے وہ تکلیف دہ ہے۔ اور خاص طور پر اس آدمی کے لیے جسے معلوم ہو کہ یہ شدت کیوں آ رہی ہے اور اسے کیسے کنٹرول کیا جانا چاہیے‘۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر موضوعات پر برملا اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرنے والے سابق صدر ایک سوال کا جواب غیر رسمی گفتگو میں بھی گول کر جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کیا وہ سیاست میں آئیں گے؟

اسی بارے میں
صدارتی کیمپ پر 16 کروڑ خرچ
26 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد