BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 January, 2009, 19:18 GMT 00:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی کیمپ پر 16 کروڑ خرچ

قومی اسمبلی
ستمبر 2006 سے تیس جون 2008 تک ایوان صدر اسلام آْباد پر ساڑھے چونسٹھ کروڑ روپے خرچ ہوئے
حکومت نے پیر کو قومی اسمبلی میں بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے آرمی ہاؤس سے ملحقہ عمارت میں صدارتی کیمپ آفس بنانے پر چھ برسوں میں سولہ کروڑ چودہ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شمشاد ستار بچانی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر سنہ دو ہزار دو سے تیس جون سنہ دو ہزار آٹھ تک ایوان صدر اسلام آْباد پر ساڑھے چونسٹھ کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔

حکومتی جواب کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف آرمی ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں لیکن صدارتی کیمپ آفس کو غیر فعال کردیا گیا ہے۔

یہ سوال غیر نشاندار سوالات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس پر اراکین اسمبلی کو ضمنی سوال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ متعلقہ رکن نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیمپ آفس قائم کرنے کی وجہ کیا ہے لیکن تحریری طور پر پیش کردہ حکومتی جواب میں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی محمد برجیس طاہر کے سوال پر وزیراعظم سیکریٹریٹ نے بتایا کہ موجودہ حکومت صدر پرویز مشرف کے دور میں قائم کردہ ضلعی حکومتوں کا نظام ختم نہیں کرے گی۔

حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ وزیراعظم نے ضلعی حکومتوں کے نظام، پولیس آرڈر دو ہزار دو اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کے لیے وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی بنادی ہے جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ملک سے بدعنوانی کو روکنے کے لیے بھی سفارشات دے گی۔

پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل کے سوال پر وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی آئی ایم ایف سے اس طرح کا ٹیکس لگانے کا کوئی معاہدہ ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے محمد افضل کھوکھر کے سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ تین ہزار نو سو چوبیس افراد کے نام ملک سے باہر جانے والوں پر پابندی کی فہرست میں شامل ہیں۔ رازداری کا عذر پیش کرتے ہوئے حکومت نے اس فہرست میں شامل افراد کے نام نہیں بتائے۔

وزارت داخلہ نے مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی غلام حیدر سمیجو کے سوالے کے جواب میں بتایا ہے کہ یکم مارچ سے تیس اگست سنہ دو ہزار آٹھ تک ستائیس سو اٹھاسی ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کیے گیے۔ ممنوعہ بور کے لائسنس حاصل کرنے والوں میں ایک سو چوبیس اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقادر خانزادہ کے سوال کے جواب میں حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار آٹھ تک زلزلے سے متعلق ادارے ’ایرا‘ کو بہتر ارب اٹھتر کروڑ موصول ہوئے اور اس میں سے سڑسٹھ ارب نوے کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسملی کو بتایا کہ حکومت نے چاروں صوبوں میں پولیس اور ایف آئی آے کے ملازمین کی تنخواہیں یکساں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد موٹر وے پولیس کے طرز پر ان کی تنخواہیں زیادہ کی جائیں گی۔

ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ بھاری مقدار میں سرمایہ ملک سے غیر قانونی طور پر باہر منتقل کرنے کے خلاف سٹیٹ بینک کی رپورٹ پر منی چینجرز کے خلاف کارروائی کی گئی اور جاوید خانانی سمیت تیرہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ان کے مطابق خانانی اینڈ کالیا کمپنی کے چھ افراد الطاف خانانی، عاطف پولانی، جاوید قاسم، اقبال کسبتی اور فیصل نیامت مرزا ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے ایوان کو بتایا کہ یکم جولائی دو ہزار تین سے تیس جون سنہ دو ہزار آٹھ تک پاکستان نے تیرہ ارب اکانوے کروڑ ڈالر کا قرض لیا اور اس عرصے میں گیارہ ارب اکہتر کروڑ ڈالر کا قرضہ واپس کیا جس میں سے تین ارب ستاسی کروڑ ڈالر کا سود شامل ہے۔

اسی بارے میں
ڈرون حملوں پر سینیٹ کی مذمت
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد