BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں اقتدار کی سرد جنگ

شہباز شریف
شہباز شریف مسلم لیگ قاف کے اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں
پنجاب کے گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم کے دو مشیران منظور وٹو اور رحمان ملک کی پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت اور گورنر سلمان تاثیر سے ملاقات ہوئی ہے۔

ملاقات کے بعد وزیراعظم کے مشیر منظور وٹو نے میڈیا کو بتایا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے حکمران اتحاد سے الگ ہونے میں پہل نہیں کرے گی۔ سینیئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ ان کے وزراء معمول کے مطابق اپنے دفاتر جاتے رہیں گے۔

مرکز میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ا تحاد کے خاتمے کے بعد پنجاب میں دونوں پارٹیوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما متعدد بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ پیپلزپارٹی اب پنجاب حکومت سے الگ ہوجائے۔ مسلم لیگ نون کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ الگ نہ ہوئے تو صوبائی سیکرٹریوں کو بلاکر اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ وہ پیپلز پارٹی کے وزراء کے احکامات نہ مانیں۔

پنجاب میں وزرات اعلی مسلم لیگ نون کے پاس ہے جس پر میاں شہباز شریف براجمان ہیں جبکہ گورنر سلمان تاثیر کا کہنا ہے کہ وہ صوبے میں پیپلز پارٹی کے نمائندے ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز تو اتحاد بنتے ہی ہوگیا تھا لیکن صدارتی انتخاب کے موقع پر یہ عروج پر نظر آیا اور کہا گیا کہ اگر مسلم لیگ نون کے صدارتی امیدوار کے پنجاب اسمبلی سے کم ووٹ نکلے تو پیپلز پارٹی اسے اپوزیشن بنچوں کا راستہ دکھانے میں چند دن سے زیادہ دیر نہیں لگائے گی۔

مسلم لیگ نون کے امیدوار نے جتنے ووٹ لیے وہ سادہ اکثریت سے چودہ زیادہ تھے لیکن صدارتی انتخاب کے موقع پرایک دوسرے کے اراکین اور خاص طور پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلاک کے اراکین کی کھینچا تانی کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تاحال جاری ہے۔

مالا مال روڈ
 مال روڈ کی ایک طرف یعنی نوے شاہراہ قائداعظم پر ایوان وزیر اعلی میں مسلم لیگ نون مسلم لیگ قاف کے اراکین کی دعوتیں کرتی ہے، ان کے ساتھ مستقبل کے پلان بناتی ہے اور مال روڈ کی دوسری طرف گورنر ہاؤس پیپلزپارٹی کے ’قاف ملاؤ‘ مذاکرات کا مرکز بنا ہے

مال روڈ کی ایک طرف یعنی نوے شاہراہ قائداعظم پر ایوان وزیر اعلی میں مسلم لیگ نون مسلم لیگ قاف کے اراکین کی دعوتیں کرتی ہے، ان کے ساتھ مستقبل کے پلان بناتی ہے اور مال روڈ کی دوسری طرف گورنر ہاؤس پیپلزپارٹی کے ’قاف ملاؤ‘ مذاکرات کا مرکز بنا ہے۔

مسلم لیگ قاف کی پانچ خاتون اراکین پنجاب اسمبلی خدیجہ عمر وغیرہ نے جمعہ کو لاہورمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ حکومت انہیں ساتھ ملانے کے لیے ہراساں کر رہی ہے۔

مسلم لیگ نون کے صدر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے دو روز پہلے ایوان وزیراعلی میں مسلم لیگ قاف کے پارٹی پالیسی مخالف اراکین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں دو درجن سے زائد اراکین نے شرکت کی اور ان میں سے ایک رکن عطامانیکا نے یہ بیان جاری کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی مسلم لیگ نون کا ساتھ دینے کے لیے اپنی سیٹیں قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور ایسا وقت آیا تو وہ ضمنی انتخاب مسلم لیگ نون کےٹکٹ پر لڑیں گے۔

پیپلز پارٹی نے فاروڈ بلاک کے چند اراکین نجف سیال وغیرہ کو ساتھ ملایا تو ہے لیکن وہ مسلم لیگ قاف کی قیادت سے بھی رابطے رکھے ہوئے ہے۔گورنر پنجاب سلمان تاثیرنے مسلم لیگ قاف کے رہنما چودھری پرویز الہی سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کی تھی جبکہ منظور وٹو چودھری شجاعت سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔

مقامی میڈیا میں تواتر سے تبصرے شائع ہو رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف کو ساتھ ملاکر پنجاب میں اپنی حکومت بنانا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کسی رہنما نے کبھی کھل کر ایسی کسی کوشش کا اعتراف نہیں کیا لیکن مسلم لیگ قاف کے رہنما کہتے ہیں کہ ان سے ملاقاتیں اسی تناظرمیں ہوتی ہیں۔

مسلم لیگ نون کو پنجاب میں سادہ اکثریت کی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ایک سو ستاسی ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس کے اپنے اراکین کی تعداد ایک سو اکہتر ہے۔مسلم لیگ فنکشنل اور ایم ایم اے کے پانچ اراکین نے اس کی حمائت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ شہباز حکومت فاروڈ بلاک کے دو درجن سے زائد اراکین کو پروں کےنیچے لیے بیٹھی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جو پارٹی مستقبل میں اپنی حکومت کے رہنے کا یقین دلانے میں کامیاب ہوگی پنجاب اسمبلی کے ’بے وفا‘ اراکین اسی کے ساتھ رہیں گے اور فی الحال مسلم لیگ نون یہ تاثر قائم رکھنے میں کامیاب ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہےکہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ ابھی وزیراعلی شہباز شریف کے بارے میں عدالتی فیصلہ زیرالتوا ہے اور اگر یہ فیصلہ ان کے خلاف ہوا تو ہوا کا رخ دیکھ کر سمت تبدیل کر لینے والے پرندے ان کے کوٹھے سے اڑ کر پیپلز پارٹی کی اقتدار والی چھت پر جا بیٹھیں گے۔

مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما نثار علی خان نے کہا کہ پنجاب پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ نواز شریف کی لندن سے پاکستان واپسی پر ہوگا تب تک ان کی جماعت کا کوئی رہنما پیپلز پارٹی کے خلاف بیان جاری نہیں کرےگا۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد