BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2008, 23:14 GMT 04:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نو سال بعد شجاعت۔نواز ملاقات

نواز شریف اور شجات حسین
دونوں رہنماؤں نو برس کی سیاسی رقابت کے بعد پہلی بار ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا
ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بلائی جانے والی قومی سلامتی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے حکومت کو تو مکمل تائید حاصل ہو ہی گئی لیکن میاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کے لیے بھی یہ فورم ’زحمت میں رحمت‘ ثابت ہوا ہے۔

منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں دونوں رہنما نو برس کی سیاسی رقابت کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ہوئے، ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا اور خیریت دریافت کی۔

چوہدری برادران کو میاں نواز شریف اپنے خاندان کے بعد سیاسی اور سماجی معاملات میں اہمیت دیتے تھے لیکن چوہدریوں کے قریبی حلقوں کے مطابق انیس سو ستانوے میں وعدے کے باوجود بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الہیٰ کو نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے شریف خاندان سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔

چوہدری برادارن موقع کی تاڑ میں تھے اور ان کے لیے بارہ اکتوبر انیس ننانوے کا دن اپنی جدا گانہ سیاسی حیثیت قائم کرنے کی نوید لایا۔ جب بارہ اکتوبر وزیراعظم ہاؤس سے میاں نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگا کر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو انہیں سیاسی سہارا دینے کے لیے گجرات کے چوہدریوں، شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ نے انہیں اپنا کندھا فراہم کیا تھا۔

میاں نواز شریف کے جیل سے جلاوطنی کے دوران چوہدری برادران نے ان کی غیرموجودگی کا خوب فائدہ اٹھایا اور ہمیشہ اقتداری تالاب میں رہنے والی سیاسی مچھلیوں کو اکٹھا کر کے اپنا سیاسی قد اور بڑھایا۔

چوہدری برادران نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے بعد شریف برادران کی کھلم کھلا مخالفت شروع کر دی تھی

جب پرویز مشرف کا ستارہ گردش کرنے لگا تب بھی چوہدریوں نے شریف خاندان کی مخالفت کی نئی مثالیں قائم کیں اور رواں سال انتحابی مہم کے دوران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے فریقین نے کروڑوں روپے اشتہار بازی پر پھونک دیے۔

مشرف کے نو سالہ دور میں چوہدریوں ایک طرف بینظیر بھٹو سے محاذ آرائی کی تو دوسری طرف شریف برادران کو آڑے ہاتھوں لیا۔

لیکن بینظیر بھٹو کے قتل نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کو ایسے پلٹ دیا کہ صدر مشرف اور ان کے سیاسی بازو گجرات کے چوہدری بھی کمزور ہونے لگے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج نے ان کی کمزوری سے پردہ چاک کیا اور حالات نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو مل کر حکومت بنانے پر مجبور کیا۔

دونوں جماعتوں کے اتحاد کے دباؤ میں پرویز مشرف صدارت کے عہدے سے علیحدہ ہو گئے۔

جب مسلم لیگ (ن) بظاہر ججوں کی بحالی کے سوال پر وفاقی حکومت سے علیحدہ ہوئی اور پنجاب میں اپنی حکومت برقرار رکھنا چاہی تو ایک نئی چپقلش پیدا ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور منظور احمد وٹو کی معرفت جب پنجاب میں جوڑ توڑ شروع کی تو ایک موقع ایسا بھی آیا کہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ادغام کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع ہوگئیں۔

اس دوران چوہدری شجاعت نے شرط عائد کی کہ میاں نواز شریف ان کے گھر چل کر آئیں تو پھر بات بن سکتی ہے۔ لیکن اس دوران جب نواز لیگ کی پیپلز پارٹی سے پنجاب حکومت کے متعلق مفاہمت ہوئی تو وہ ملاقات نہیں ہوسکی اور بقول مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے چوہدریوں کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔

لیکن دونوں کو ممبئی حملوں نے ملاقات کا موقع فراہم کیا اور برف پگھلی۔ دونوں جماعتوں کے ادغام کے خواہشمند بہت خوش ہیں اور ایک بار پھر وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے وزیراعظم کی طلب کردہ قومی کانفرنس کا فورم جہاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین جیسے رقیبوں کی ملاقات کا سبب بنا وہاں متحدہ مجلس عمل کے ناراض رہنماؤں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ ملانے کا بھی جواز بنا۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ فی الوقت تو یہ فورم حکومت کے لیے رحمت ثابت ہوا ہے کہ تمام جماعتوں نے ان کی ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی پالیسی کی تائید کر دی ہے لیکن اس میں نواز ۔ شجاعت اور قاضی۔ فضل ملاقاتیں شاید مستقبل قریب میں حکومت کے لیے سیاسی طور پر زحمت ثابت ہوسکتی ہیں۔

اسی بارے میں
فوج سے مل کر قومی دفاع کا عزم
02 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد