BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2008, 19:13 GMT 00:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پی ایم ایل کیو میں اختلافات ختم‘

چوہدری شجاعت حسین
پارٹی میں بیرونی عناصر نے اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اب بزرگ رہنماؤں کی ہدایت پر تمام اختلافات حل ہو چکے ہیں
مسلم لیگ قاف کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پارٹی نظم و نسق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے ایک بااختیار خصوصی کمیٹی بنانے کے فیصلے سمیت تیرہ قرارداوں کی منطوری دی گئی ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں مسلم لیگ قاف کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں بیرونی عناصر نے اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اب بزرگ رہنماؤں کی ہدایت پر تمام اختلافات حل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں متفقہ طور فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ پارٹی اختلافات میڈیا کی بجائے آپس میں مل بیٹھ کر حل کیے جائیں گے تاہم اگر کوئی شکایت لیکر میڈیا پر جائےگا تو اس کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ کمیٹی کو با اختیار بنانے کے لیے خصوصی اختیارات بھی دیے گئے ہیں ۔

مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملکی حالات پر پارٹی پالیسی کے حوالے سے تیرہ قرار دادوں کی بھی منطور کی گئی ہیں۔

پریس کانفرس میں قرارداوں کی تفصیل بتاتے ہوئے مسلم لیگ قاف کے رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونخواہ رکھنے جیسے متنازع مسئلے کو اس وقت قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ چھیڑا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور اسمبلی کے بعض ممبران از خود صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور اگر نام تبدیل کرنا ہی ہے تو اس کے لیے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے اور آئین میں اس حوالےسے ترامیم کی جائے۔

اس کے علاوہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج کی طرف سے پاکستانی حدود کی کھلی خلاف ورزیوں کو فوری بند کروائے اور اس سلسلے میں احتجاج سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔

اسی طرح حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو قبول نہ کیا جائے اور قرض لینے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے ۔ اس کے علاوہ تمام پاکستانی جن میں سیاست دان ، تاجر اور حکمران بھی شامل ہیں وہ اپنا بیرون ملک منتقل کیا گیا سرمایہ وطن واپس لائیں جبکہ حکومت اس حوالے سے اپنی پالیسی بیان کرے کہ بیرون ملک سےسرمایہ لانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

دیگر قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دریائے چناب کے پانی کا مسئلہ فوری طور پر مذاکرات یا بین الاقوامی اداروں کی مدد حاصل کر کے حل کیا جائے ۔ جب کہ امریکہ میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ اور انہیں امریکہ میں قید کے دوران قانونی معاونت کے ساتھ طبی معاونت فراہم کی جائے۔

اس کے علاوہ دیگر قراردادوں میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران عام لوگوں کو تفحفظ دیا جائے اس کے علاوہ ملک میں روز مرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی سستے داموں فراہمی کو یقنی بنایا جائے۔

پریس کانفرس میں مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری اطلاعات طارق عطیم نے بتایا کہ اتوار کے اجلاس میں بارہ کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے پارٹی کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی تجاویز دیں گیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد