پی ایم ایل کیو دھڑوں میں ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہے ہیں اور جمعے کو باغی دھڑوں اور پارٹی قیادت کے درمیان پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے حتمی مذاکرات متوقع ہیں۔ ہر دور حکومت کی طرح اس بار بھی حکومت کے ختم ہوتے ہی مسلم لیگ کے اندر مختلف دھڑوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور اب پارٹی کے ایک سرگرم رہنما حامد ناصر چٹھ کی قیادت میں ایک مضبوط گروپ پارٹی قیادت کو ہٹا کر مسلم لیگ کو نئی قیادت فراہم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ چٹھ گروپ کا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ میں فوری انتخابات کروائے جائیں اور یہ کہ گجرات کے چوہدریوں کے خاندان کا کوئی فرد ان پارٹی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا بھی اعلان کرے۔ مسلم لیگ کی صدارت اور دیگر عہدوں کے لیے انتخابات اگلے برس ہونے ہیں۔ ناراض گروپ کے اس مطالبے کا عملی طور پر مطلب یہی بنتا ہے کہ چوہدری برادران پارٹی کی باگ ڈور حامد ناصر چٹھ گروپ کے حوالے کر دیں۔ پاکستان مسلم لیگ کی اندرونی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی پر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی گرفت تیزی سے کمزور پڑ رہی ہے، اس کے باوجود قرائن یہی بتاتے ہیں کہ چوہدری برادران پارٹی قیادت سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پارٹی کے ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی مرکزی اور صوبہ پنجاب کی اسلمبیوں میں فارورڈ بلاک کے نام پر پارٹی چھوڑ چکے ہیں جبکہ مزید ارکان کی حمایت حامد ناصر چٹھ اور اس کے علاوں بعض دیگر چھوٹے گروپس کو حاصل ہے۔ ادھر چوہدری شجاعت حسین اپنے تایا زاد بھائی پرویز الٰہی کو کسی طور اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے جب کہ اس بات کے بھی خدشات موجود ہیں کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ چھن جانے کے بعد پارٹی عہدے سے علیحدگی کے بعد انہیں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پرویز الٰہی کا نام پنجاب بنک سکینڈل میں لیا جاتا رہا ہے جس کے بعض کردار جن میں پنجاب بنک کے بعض سینئر عہدیدار شامل ہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں۔ مسلم لیگ کی قیادت کے خلاف یہ ’بعاوت‘ ناکام ہوتی ہے یا کامیاب، سیاسی مبصرین کی توجہ چوہدری برادران، خاص طور پر پرویز الٰہی کے خلاف شروع ہونے والی اس مہم کے منبے کی تلاش پر ہے۔ بعض کے خیال میں اس کا کُھرا ایوان صدر تک جاتا لگتا ہے جہاں پرویز الٰہی کی غیر مقبولیت اور حامد ناصر چٹھ کی مقبولیت، دونوں راز نہیں ہیں۔ یہ حقیقت بھی محض اتفاق نہیں کہ چوہدری برادران کی علیحدگی حوالے سے چٹھ گروپ، پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ نواز، تینوں کے مفاد مشترک ہیں۔ | اسی بارے میں اتحاد رہنا ہے یا نہیں ، فیصلہ آج25 August, 2008 | پاکستان ’پارلیمان کو بائی پاس نہ کریں‘20 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا کوئی جواز نہیں‘09 August, 2008 | پاکستان کشمالہ طارق کی رکنیت منسوخ08 July, 2008 | پاکستان فے نے بھی قاف سے راستہ الگ کر لیا27 March, 2008 | پاکستان بلوچستان:ق لیگ پی پی پی کی حامی21 March, 2008 | پاکستان ’حزب اختلاف میں بیٹھیں گے‘23 February, 2008 | پاکستان غلطی کا اعتراف معذرت سے انکار02 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||