’حزب اختلاف میں بیٹھیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ (ق) نے کہا ہے کہ وہ حزب اختلاف میں بیٹھیں گے اور نئی حکومت سے ٹکراؤ یا مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی نہیں اپنائیں گے۔ یہ فیصلہ سنیچر کو اسلام آباد میں اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مسلم لیگ (ق) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت نے کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کے مرکزی اور بعض صوبائی قائدین کے علاوہ نو منتخب اراکین اور انتخابات ہارنے والے امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس کے بعد مسلم لیگ( ق) کے سیکریڑی جنرل مشاہد حسین نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اختلاف میں بیٹھ کر اپنا تعمیری کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ’ وہ ماضی میں حزب اختلاف کی منفی اور محاذ آرائی کی سیاست کے برعکس مصالحت کی سیاست کی بنیاد ڈالیں گے‘۔ مشاہد حسین نے کہا: ’وہ قومی ایجنڈے کی خاطر جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر آئندہ کی حکومت کی تائید اور امداد کریں گے‘۔ انہوں نے کہا: ’یہ قومی ایجنڈہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، تعلیم، صحت انصاف، عوامی بہبود اور خواتین اور اقلیتیوں حقوق جیسے معاملات کے علاوہ پارلینمنٹ کو تمام فیصلوں کا محور بنانے جیسے معاملات پر مرتکز ہونا چاہیے۔ اس ایجنڈے کا یہ بھی مقصد ہو کہ ایسی خارجہ پالیسی بنائی جائے جس پر قومی اتفاق رائے ہو اور جسے عوام کی تائید حاصل ہو‘۔ اس پالیسی میں ان کے بقول خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہمسایہ ممالک اور مغربی ممالک کے ساتھ کس طرح کے تعلقات ہوں اور دشہت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم میں ہمارا کیا رویہ ہونا چاہیے۔
مشاہد حسین کا کہنا تھا:’اس قومی ایجنڈے میں صوبائی خودمختاری کا معاملہ بھی شامل ہو اور ہم صوبوں کی اندرونی خود مختاری کی حمایت اور تائید کریں گے‘۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ’ ہم بلوچستان کیمٹی رپورٹ پر عمل درآمد کرائیں گے جو بلوچستان کے حقوق کے متعلق ہے‘۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا: ’وہ جہموریت کو اور مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کریں گے اور پاکستان کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا: ’ان کی جماعت بلوچستان میں مخلوط حکومت کی قیادت کرےگی‘۔ دلچسپ بات یہ ہے اس موقع پر سابق حکمران جماعت نے سندھ کے بعض حلقوں میں پیپلز پارٹی پر انتخاب میں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا: ’ان سے خاص طور پر مسلم لیگ (ق) کے سندھ کے امیدواروں نے انتخابات میں دھاندلی کی شکایت کی ہے‘۔ اس نیوز کانفرنس میں جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت اور پنچاب کے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہی ٰ نے بھی خطاب کیا۔ چوہدری شجاعت نے اس امکان کو مسترد کیا کہ وہ مرکز میں حکومت بنائیں گے یا حکومت میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی ان کو کہا جارہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ جام یوسف سمیت بعض نو منتخب اراکین شریک نہیں ہوئے لیکن چودھری شجاعت نے کہا کہ وہ بعض مصروفیات کے باعث شریک نہیں ہوسکے۔ تاہم ان کا یہ کہنا تھا:’ان کا کوئی بھی رکن جماعت نہیں چھوڑ رہا‘۔ ساتھ ہی ان کا یہ کہنا تھا کہ’ اپوزیشن میں مقدار کو نہیں بلکہ معیار کو دیکھا جاتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین میں کم22 February, 2008 | پاکستان مسلم لیگ(ق) کی شکست وکلاء تحریک کی کامیابی: اعتزاز19 February, 2008 | پاکستان شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان ’چوہدری شجاعت کا بیان پاگل پن‘22 October, 2007 | پاکستان کالعدم تنظیم اور مسلم لیگ کا ساتھ16 February, 2008 | پاکستان پنجاب: مسلم لیگ قاف پر حملے27 December, 2007 | پاکستان مسلم لیگ (ق) کے منشور کا اعلان 10 December, 2007 | پاکستان مسلم لیگ (ق) سندھ میں متحرک27 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||