مسلم لیگ (ق) سندھ میں متحرک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی آمد اور مستقبل میں امکانی تبدیلیوں کے پیش نظر حکمران جماعت آئندہ انتخابات میں اپنا اتحاد برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین نے سنیچر کی صبح گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ قاف کی مقامی قیادت سے ملاقات کی اور ان سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز، چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ پیر پگارہ کی رہائش گاہ پر پہنچے اور ان سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کے انضمام کے وقت دونوں رہنماؤں میں شدید اختلاف دیکھنے میں آئے تھے اور پیر پگارہ نے چودھری شجاعت حسین کو مسلم لیگ قاف کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور وہ یہ بھی کہہ چکے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے انتخابات میں سیٹ ایڈجسمنٹ ہوسکتی ہے۔ ملاقات کے بعد چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ کے کارکن ہیں اور اس کے سربراہ پیر پگارہ ہی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوجائےگا۔ یہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدار ہوں گے۔ پیر پگارہ کا کہنا تھا:’چودھری شجاعت حسین زیرو سے ہیرو ہوگئے ہیں۔ صدر مشرف جتنا چاہیں گے، وہ اتنا بڑہ گرینڈ الائنس بنائیں گے اور اس سلسلے میں ماضی کے تجربات ذہن میں رکھے جائیں گے‘۔ بعد ازاں وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو گئے اور رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر شوکت عزیز اور چودھری شجاعت سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ وہ اتحادی جماعتوں سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ ان تمام جماعتوں کی یہ رائے ہے کہ ملک میں امن امان برقرار رہے اور جمہوریت کو فروغ ملے۔ مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ قاف، فنکشنل مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کا اتحاد آئندہ انتخاب میں بھی جاری رہےگا اور یہ جماعتیں ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے یہ طے ہوا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ کی ایک کمیٹی بنائی جائےگی جو معاملات طے کرےگی اور اختلافی معاملات کو زیر بحث نہیں لایا جائےگا۔ اس سے قبل بینظیر بھٹو کی آمد سے پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ کا رویہ پاکستان پیپلز پارٹی سے مثبت دیکھنے میں آیا تھا۔ متحدہ کے رہنماؤں نے ان سے بلاول ہاؤس میں ملاقات بھی کی تھی۔ |
اسی بارے میں حکومتی جماعت میں اختلافات21 June, 2007 | پاکستان ’مسلم لیگ میں کوئی بغاوت نہیں‘28 August, 2007 | پاکستان حکمران جماعت چھوڑنے کا سلسلہ28 June, 2007 | پاکستان کراچی متحدہ، لاہور مسلم لیگ (ق)06 October, 2005 | پاکستان جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے تحفظات31 August, 2007 | پاکستان ’مسلم لیگ قاف میں نے بنوائی‘25 September, 2006 | پاکستان ’فارورڈ بلاک‘ پھر سرگرم09 December, 2005 | پاکستان سندھ حزب اختلاف کی کوشش ناکام13 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||