BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 09:27 GMT 14:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم لیگ میں کوئی بغاوت نہیں‘

پرویز الہی
اختلاف رائے رکھنے والوں کو پارٹی سے نکال نہیں دیا جائے گا: پرویز الہی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور حکمران مسلم لیگ کے صوبائی صدر چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم ظفراللہ جمالی مسلم لیگ چھوڑ چکے ہیں اور اب وہ ایک فتنہ لیگ بنا رہے ہیں۔

ظفر اللہ جمالی نے گزشتہ روز (پیر کو) ہی گوجرانوالہ میں مسلم لیگی رہنماحامد ناصر چٹھہ اور دیگر مسلم لیگی دھڑوں سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ متحدہ مسلم لیگ بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن اس مسلم لیگ میں چودھری صاحبان یعنی چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی شامل نہیں ہونگے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے منگل کی دوپہر لاہور میں اپنے دفتر آٹھ کلب روڈ پر ایک پریس کانفرنس سے خـطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظفراللہ جمالی نے جب وزیراعظم بننا تھا تب مسلم لیگ ان کی نظر میں اچھی تھی اب جب وہ مسلم لیگ چھوڑ چکے ہیں تو وہ کوئی فتنہ لیگ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ظفر اللہ جمالی کو چاہیے کہ وہ اس مسلم لیگ کا نام متحدہ کی بجائے ’فتنہ لیگ‘ ہی رکھیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ نواز سے کسی بھی قسم کا اتحاد یا مفاہمت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ نون سے کوئی بات کر رہے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں۔

 بے نظیر بھٹو سے مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن ان مذاکرات کا جوبھی نتیجہ نکلے ان کی مسلم لیگ پیپلز پارٹی سے کوئی انتخابی اتحاد بنائے گی نہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی
پرویز الٰہی

چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ مسلم لیگ کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین نے بھی مسلم لیگ نون سے اتحاد کرنے کا بیان نہیں دیا بلکہ انہوں نے محض یہ کہا تھا کہ قومی ایشوز پر سب کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

مسلم لیگ کے صوبائی صدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو سے مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن ان مذاکرات کا جوبھی نتیجہ نکلے ان کی مسلم لیگ پیپلز پارٹی سے کوئی انتخابی اتحاد بنائے گی نہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔

انہوں نے اپنے اس مؤقف کو دھرایا کہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی سے بات ہوسکتی ہے۔ وزیر اعلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات ہوئے ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ان سے کچھ امور پر بات ہوئی ہے اور اب فضل الرحمان اپنے ساتھیوں سے صلاح ومشورہ کریں گے جس کے بعد کوئی نتیجہ سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ مسلم لیگ میں کوئی بغاوت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو پارٹی سے نکالا نہیں جائےگا اور انتخابات کے نزدیک اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ انہیں پارٹی ٹکٹ دیا جائے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد