مسلم لیگ(ق) کی شکست وکلاء تحریک کی کامیابی: اعتزاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف کے پاس مستعفیْ ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہےعدلیہ کی بحالی کے لیے نئی پارلیمان کو وقت دینا چاہتے ہیں اور اگر کوئی اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہے تو وکلاء اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اعتزاز احسن پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد اپنی نظربندی میں اچانک نرمی کے بعد بی بی سی سے بات چیت کررہے تھے۔اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ان کی نظربندی ابھی ختم نہیں ہوئی صرف یہ نرمی کی گئی ہے کہ گھر پر آنے والوں سے ملاقات کرنے پر اب پابندی نہیں ہے۔ اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ اگر نئی حکومت اور پارلیمان نے آٹھ مارچ تک عدلیہ کو بحال نہ کیا تو وکلاء معزول ججوں کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سات مارچ تک سندھ کے معزول جج ملتان پہنچیں گے جہاں یہ جج وکلاء کے ہمراہ آٹھ مارچ کو لاہور آئیں گے اور نومارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، جبکہ سرحد کے وکلاء پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نےنومارچ کو اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کی تجویز دی ہے۔ اعتزاز احسن ان وکلا رہنماؤں میں شامل ہیں جو گزشتہ برس ملک میں تین نومبر کو لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد سے نظر بند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج کے بعد ہوا کا رخ بدلتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی تمام سیاسی جمع پونجی اور صلاحیتیں مسلم لیگ ق کی انتخابی مہم پر لگادیں تھیں اور دو سال کے دوران صدر مشرف نے وردری اور بغیر وردری کے ق لیگ کے جلسوں میں شرکت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف لیگ کو قومی اسمبلی کی دو سو ستر نشستوں میں صرف چالیس نشستیں ملیں ہیں۔اعتزاز احسن کی رائے ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد صدر پرویزمشرف کے پاس مستعفیْ ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام صدر پرویز مشرف کے خلاف ہیں اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام اس بات کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں کہ چیف جسٹس کو قید میں رکھا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کے بقول مسلم لیگ ق کی شکست وکلاء تحریک کی کامیابی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کی متوقع امیدوار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں مخدوم امین فہیم ایک موز وں امیدوار ہیں اور وہ بینظیر بھٹو کی سرپرستی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ تھے۔ |
اسی بارے میں ’عدلیہ بحالی، نئی پارلیمان پر انحصار‘19 February, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی، وکلاء کا احتجاج جاری11 February, 2008 | پاکستان ’جج کی عدالت پر ہلہ‘: مقدمے درج07 February, 2008 | پاکستان صدارت، نظرثانی درخواست مسترد15 February, 2008 | پاکستان ’غیرآئینی اقدام وقت کی ضرورت‘14 February, 2008 | پاکستان الیکشن: ابتدائی رپورٹ تین دن بعد14 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||