صدارت، نظرثانی درخواست مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے جمعہ کے روز صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دوبارہ انتخابات سے متعلق نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی۔ درخواست گزار ڈاکٹر ظہور مہدی جمعہ کو خود عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ انہیں رات کو ہی اس درخواست کی پیروی کے سلسلےمیں عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی مختصر مدت میں وہ اپنی درخواست کے حق میں دلائل دینے کے لیے تیاری نہیں کر سکے۔ درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں تیاری کے سلسلے میں پندرہ دنوں کی مہلت دی جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ ان کی درخواست میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ عہدۂ صدارت کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی میں نہ تو کوئی تجویز کنندہ ہے اور نہ ہی کوئی تائید کنندہ ہے جو کہ آئینی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اور پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم نے چھ اکتوبر سنہ دو ہزار سات کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن تین نومبر کو ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کے بعد، جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت بارہ ججوں کو فارغ کر دیا گیا تھا مذکورہ افراد عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ادھر سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے ہونے والی بدسلوکی کے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ملزمان نے دلی طور پر معافی مانگ لی ہے لہذا انہیں معاف کردیا جائے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ اس وقت ’ناروا سلوک‘ برتا تھا جب وہ تیرہ مارچ کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے پیدل سپریم کورٹ جا رہے تھے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس واقعہ میں ملوث ہونے پر اُس وقت کے آئی جی، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، ایس ایس پی، ایک ڈی ایس پی اور دو پولیس اہلکاروں کو سزائیں سنائیں تھی۔ ان سزاوں کو پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے اس عبوری حکمنامے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ٹکا اقبال محمد خان کی نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی۔ درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چوہدری ارشد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آرمی چیف کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی ماورائے آئین اقدام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے اتنی بڑی تعداد میں سپریم کورٹ کے ججوں کو فارغ کر دیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی اس وقت ملک کے حالات بہت ابتر تھے خودکش حملے ہو رہے تھے اور ملکی سالمیت خطرے میں تھی۔ صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور جب تک آرڈر میں کوئی واضح غلطی نہ ہو اس وقت تک اس پر نظر ثانی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو جائز قرار دینے کے حوالےسے جو تفصیلی آرڈر جاری کیا ہے اس میں ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں صدر کے عہدے، فیصلہ آج ہی: سپریم کورٹ28 September, 2007 | پاکستان ایمرجنسی، پی سی او جائز: سپریم کورٹ23 November, 2007 | پاکستان صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کریں، سپریم کورٹ کا حکم23 November, 2007 | پاکستان جوڈیشل بس تیار: سپریم کورٹ بار13 December, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ03 November, 2007 | پاکستان لاہورہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس25 December, 2007 | پاکستان پشاور ہائیکورٹ کے نئے سربراہ21 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||