BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 December, 2007, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوڈیشل بس تیار: سپریم کورٹ بار
اعتزاز احسن
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے لیے جوڈیشل بس سروس چلانے کا اعلان کیا تھا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چودھری محمد امین نے کہا ہے کہ پی سی اور کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےججز بحالی کے سلسلے میں بس کا انتظام کر لیا گیا ہے اور اس کی ڈرائیونگ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نظربندی تک سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری کریں گے۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تاریخ کا تعین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں بہت جلد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی دو نومبر والی حیثیت پر بحالی کے یک نکاتی ایجنڈے کے حصول کے بغیر تحریک برائے بحالی عدلیہ و آئین کی کامیابی کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے لیے جوڈیشل بس سروس چلانے کا اعلان کیا تھا۔

بیان میں عوام، سول سوسائٹی اور تمام پارٹیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھرپور طریقے سے تحریک بحالی عدلیہ اور آزادی میڈیا کا ساتھ دیں تاکہ ملک سے آمریت کا خاتمہ ہو سکے، عوامی دور اور عوام کا راج ہو تاکہ کوئی غریب عوام کے حقوق سلب کرنے کی کوشش نہ کر سکے۔

جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ آزاد اور خودمختار عدلیہ کے بغیر عوام کے حقوق کا تحفظ قانون و آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا تصور ناممکن ہے اور کوئی معاشرہ ان کی عملداری کے بغیر معاشی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی نہیں کر سکتا۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چودھری طارق وڑائچ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل کے لائسنس کی منسوخی کو غیرقانونی و غیرآئینی کہا ہے کیونکہ بار کونسل ایکٹ میں جتنی بھی ترامیم کی گئی ہیں وہ فرد واحد نے ذاتی مقاصد اور بدنیتی پر کی ہیں، ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بار کونسلیں خودمختار ادارے ہیں، وکلاء کو لائسنس کے اجراء اور منسوخی کا اختیار ان کے پاس ہے، اس لیے وکلاء اس قسم کی لائسنس منسوخیوں کو قبول نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تمام وکلاء، سول سوسائٹی، طلباء اور تمام مکاتب فکر سے اپیل کی ہے کہ وہ پندرہ دسمبر کو وکلاء سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور ایوان عدل پہنچیں جہاں اعتزاز احسن صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت متعدد وکلاء اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیں گے۔

انصاف کا ترازوتاریخ کیا کہتی ہے؟
پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ
پاکستان سپریم کورٹپاکستانی عدلیہ پر دبا‎ؤ
پاکستانی عدالتی میدان میں آج سیاسی جماعتوں سے لے کر باوردی صدر تک رجوع کر رہے میں۔
ججوں کی ملاقات
جسٹس رمدے کو حلف دلوانے کی کوشش؟
’انکل شکریہ۔۔۔‘’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد