صدر کے عہدے، فیصلہ آج ہی: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر جنرل مشرف کے دو عہدوں، وردی میں انتخاب اور سترہویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت مکمل ہوگئی ہے اور نماز جمعہ کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور جنرل مشرف کے وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعت جمعہ کے روز مکمل کرلیا۔ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں ہوگا کیونکہ بقول ان کے ’ہمارا کیس بہت مضبوط ہے‘۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے بھی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سرِ تسلیم خم کیا ہے اور اب بھی کرے گی۔ اس مقدمے میں سماعت کا آغاز سترہ ستمبر سے ہوا تھا اور اٹارنی جنرل نے دو روز قبل عندیہ دیا تھا کہ شاید اگلے بہتر گھنٹوں کے اندر اندر عدالت کوئی فیصلہ سنا دے۔ عدالت کی معاونت کے لیے دیگر وکلاء کے علاوہ عبدالحفیظ پیرزادہ اور اعتزاز احسن بھی پیش ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز جب سماعت ختم ہوئی تو اعتزاز احسن دلائل دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پاکستان میں فوجی مداخلت کی وجہ سے تین مرتبہ آئین بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی بھی آرمی افسر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ فوج کو بیرکوں اور سرحدوں پر رہنا چاہیے اور اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق آرمی چیف وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرتا ہے لیکن پاکستان میں تو ایک آرمی چیف وفاقی حکومت کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ آرمی چیف ملک کے صدر بھی ہیں اور فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر چونکہ وفاق کی علامت ہوتا ہے اس لیے اُس کو فوج کا سپریم کمانڈر قرار دیا جاتا ہے جس طرح برطانیہ میں ملکہ برطانیہ فوج کی سپریم کمانڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر وردی میں رہ کر آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایک آرمی چیف کو الیکشن لڑنے کے لیے آئین کی دفعہ دو سو تنتالیس اور دو سو چوالیس کے تحت جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنا ہوگا اور اس ضمن میں آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اعتزاز احسن نےکہا کہ آئین کے مطابق ایک فوجی جب کمیشن حاصل کرتا ہے تو وہ حلف اُٹھاتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لےگا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف وردی میں اس لیے الیکشن لڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ چیف آف دی آرمی سٹاف نہ رہے تو وہ الیکشن ہار جائیں گے۔ انہوں نے شریف الدین پیرزادہ کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف صدارتی انتخاب میں کامیابی کی صورت میں آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بیان ایک ایسی مثال کی طرح ہے کہ ایک غیر مسلم شخص عہدہ صدارت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا اس طرح جج صاحبان بھی اپنا عہدہ رکھتے ہوئے صدر کا الیکشن لڑسکتے ہیں جس پر رانا بھگوان داس نے کہا کہ انہیں صدر کا الیکشن لڑنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں شیر افگن کو توہین عدالت کا نوٹس24 August, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو نوٹس جاری03 August, 2007 | پاکستان پینشنروں کے مسائل پر از خود نوٹس29 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں14 June, 2007 | پاکستان ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس 26 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||