BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 18:22 GMT 23:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملزمان کو ریچھ اور کتا بنانے کا نوٹس

خیرپور کے ایک پولیس سٹیشن میں ملزمان
زمیندار پر ناراض ہو کر جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام
سپریم کورٹ نے خیرپور کے ایک پولیس سٹیشن میں ملزمان کو ریچھ اور کتا بن کر لڑنے پر مجبور کرنے کی اطلاعات کا از خود نوٹس لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سلسلے بدھ کی صبح خیرپور پولیس کے سربراہ ایس ایچ او کوٹ ڈیجی کے ساتوں افراد کو کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا ہے جہاں جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی اس کی سماعت کریں گے۔

واضح رہے کہ سات اگست کو مقامی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ کوٹ ڈیجی کےعلاقے نارا میں پولیس نے سات افراد کی لاک اپ میں کتے اور ریچھ کی طرح لڑائی کرائی تھی۔

پولیس نے انجنیئر غلام مرتضیٰ، علی گوہر، علی احمد، سوبھو خان، پیرانو راجڑ، منظور حسین اور میر حسن کو ایک زمیندار محمد علی کی موٹر سائیکل کی چوری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

زمیندار محمد علی کیوں ناراض ہوا
 گرفتار ملزمان کا کہنا ہے کہ زمیندار محمد علی کی ایک رشتے دار مبینہ طور پر گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی اور ڈرائیور علی گوہر نے اسے تھانے پر پہنچایا تھا
ملزمان

گرفتار افراد کا کہنا ہے کہ زمیندار محمد علی کی ایک رشتے دار مبینہ طور پر گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی اور ڈرائیور علی گوہر نے اسے تھانے پر پہنچایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ زمیندار اس پر ناراض ہوگیا اور اس نے جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے موٹر سائیکل چوری کے مقدمے میں گرفتار کرا دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران کی موجودگی میں ان کی گلے میں رسا ڈال کر ریچھ اور کتا بننے کو کہا گیا اور لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو کاٹنے کا حکم دیا گیا اس دوران پولیس افسران قہقہ لگاتے رہے۔

خیرپور ضلعی پولیس کے تفتشی سربراہ پیر محمد شاہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو تین بار ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے اسلحہ بھی بر آمد ہوا تھا اور انہوں نے خود کو بچانے کے لیے یہ الزام عائد کیا ہے۔

تب تو انہوں نے شکایت نہیں کی
 تفتشی سربراہ پیر محمد شاہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو تین بار ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کی تھی
تفتیشی افسر

ڈی پی او کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کے گھر چھوڑنے کی کہانی بنائی ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے سیشن کورٹ خیرپور میں پولیس پر اس معاملے کی ایف آئی آر دائر کرانے کی کوشش کی تھی مگر ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹریفک جام ہونے کی شکایت کا بھی نوٹس لیا ہے اور ڈی آئی جی ٹریفک کو جسٹس نواز عباسی نے کراچی میں اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے۔

ایم کیو ایم یہ حکم کس کا تھا
کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا
جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
اعضاء فروشی کیس
بچوں کے قتل کا مقدمہ، پولیس اہلکارگرفتار
پولیس پر مقدمہ
تھانے میں ملزم بہنوں کی اجتماعی آبروریزی
ہونٹ سینے کی سزا
قیدی کے ہونٹ سینے پر سات پولیس اہلکار معطل
شوکت پرس میں پستول
اسلام آباد کی ایک تقریب میں پستول سے ہل چل
محمد رفیققانون کو گھونسے
انسپکٹر کو فوجیوں سے الجھنے کی سزا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد