ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | زمیندار پر ناراض ہو کر جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام |
سپریم کورٹ نے خیرپور کے ایک پولیس سٹیشن میں ملزمان کو ریچھ اور کتا بن کر لڑنے پر مجبور کرنے کی اطلاعات کا از خود نوٹس لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے بدھ کی صبح خیرپور پولیس کے سربراہ ایس ایچ او کوٹ ڈیجی کے ساتوں افراد کو کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا ہے جہاں جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی اس کی سماعت کریں گے۔ واضح رہے کہ سات اگست کو مقامی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ کوٹ ڈیجی کےعلاقے نارا میں پولیس نے سات افراد کی لاک اپ میں کتے اور ریچھ کی طرح لڑائی کرائی تھی۔ پولیس نے انجنیئر غلام مرتضیٰ، علی گوہر، علی احمد، سوبھو خان، پیرانو راجڑ، منظور حسین اور میر حسن کو ایک زمیندار محمد علی کی موٹر سائیکل کی چوری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
 | زمیندار محمد علی کیوں ناراض ہوا  گرفتار ملزمان کا کہنا ہے کہ زمیندار محمد علی کی ایک رشتے دار مبینہ طور پر گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی اور ڈرائیور علی گوہر نے اسے تھانے پر پہنچایا تھا  ملزمان |
گرفتار افراد کا کہنا ہے کہ زمیندار محمد علی کی ایک رشتے دار مبینہ طور پر گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی اور ڈرائیور علی گوہر نے اسے تھانے پر پہنچایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمیندار اس پر ناراض ہوگیا اور اس نے جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے موٹر سائیکل چوری کے مقدمے میں گرفتار کرا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران کی موجودگی میں ان کی گلے میں رسا ڈال کر ریچھ اور کتا بننے کو کہا گیا اور لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو کاٹنے کا حکم دیا گیا اس دوران پولیس افسران قہقہ لگاتے رہے۔ خیرپور ضلعی پولیس کے تفتشی سربراہ پیر محمد شاہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو تین بار ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے اسلحہ بھی بر آمد ہوا تھا اور انہوں نے خود کو بچانے کے لیے یہ الزام عائد کیا ہے۔
 | تب تو انہوں نے شکایت نہیں کی  تفتشی سربراہ پیر محمد شاہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو تین بار ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کی تھی  تفتیشی افسر |
ڈی پی او کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کے گھر چھوڑنے کی کہانی بنائی ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے سیشن کورٹ خیرپور میں پولیس پر اس معاملے کی ایف آئی آر دائر کرانے کی کوشش کی تھی مگر ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹریفک جام ہونے کی شکایت کا بھی نوٹس لیا ہے اور ڈی آئی جی ٹریفک کو جسٹس نواز عباسی نے کراچی میں اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے۔ |