ق لیگ کی مرکزی کونسل کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ق) میں قیادت پر پیدا ہونے والے اختلافات ختم کرنے اور آئندہ کا لائحۂ عمل مرتب کرنے کے لیے چوہدری شجاعت حسین نے اپنی جماعت کی مرکزی کونسل کا اجلاس سنیچر کی صبح اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔ یہ بات مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما اور پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں قائد حزب مخالف کامل علی آغا نے بتائی۔ ان کے مطابق اتوار کو پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے ہوں گے۔ مسلم لیگ (ق) میں قیادت کی تبدیلی کے سوال پر آج کل چوہدری شجاعت حسین اور حامد ناصر چٹھہ کے درمیان کھینچا تانی جاری ہے اور سابق صدرِ پاکستان سردار فاروق لغاری کی کوششیں بھی تاحال اختلافات ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ کامل علی آغا نے رابطہ کرنے پر اپنی جماعت میں اختلافات اور توڑ پھوڑ کی تصدیق کی اور کہا کہ ’یہ پاکستانی سیاسی کلچر رہا ہے کہ جو جماعتیں اقتدار میں نہیں ہوتیں ان میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ق) کو توڑنے کے لیے دباؤ ہے۔ ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری، سابق صدر پرویز مشرف اور مسلم لیگ (نواز) ان کی جماعت کو توڑنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس بارے میں مسلم لیگ (ق) کی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل اور حامد ناصر چٹھہ کے قریبی ساتھی اقبال ڈار سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی اجلاس میں شرکت کریں گے اور پارٹی کے اندر بیٹھ کر الزامات کا جواب دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری یا پرویز مشرف کے کہنے پر نہیں بلکہ مسلم لیگ (ق) کے وسیع تر مفاد میں حامد ناصر چٹھہ کی کوشش ہے کہ جماعت کو ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جائے۔ | اسی بارے میں ’چوہدری وعدے سے پھر گئے ہیں‘13 November, 2008 | پاکستان مشرف آئین بچانے کے لیے تعاون نہیں‘10 November, 2008 | پاکستان ’پارٹی ڈِسپلن پر ایکشن لیں گے‘02 November, 2008 | پاکستان کسی سے اتحاد نہیں ہو گا: پرویز01 November, 2008 | پاکستان ’مشرف صدارت: بے وقت کی راگنی‘29 October, 2008 | پاکستان سکیورٹی بریفنگ، ن لیگ مایوس 15 October, 2008 | پاکستان وجاہت فورس کے خلاف کارروائی18 September, 2008 | پاکستان لاہور میں افطاریوں کی سیاست18 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||