لاہور میں افطاریوں کی سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں حکمران مسلم لیگ ن اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے درمیان سیاسی قوت کے اظہار کے لیے ایک ہی روز میں دو الگ الگ افطار پارٹیاں ہوئیں۔ پنجاب کی حالیہ سیاسی کشمکش کا اکھاڑہ مسلم لیگ قاف بنی ہوئی ہے اور دونوں اس جماعت کے اراکین کو ساتھ ملانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز صرف منحرف اراکین کو ساتھ ملانے کے لیے کوشاں ہے جبکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف کی قیادت سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ پوری مسلم لیگ قاف اتحاد کرے تب ہی وہ پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ اسی لیے جب مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ قاف نے اراکین پنجاب اسمبلی کے اعزاز میں ایک ہی روز الگ الگ افطار پارٹیاں رکھیں اور مقامی میڈیا نے اسے سیاسی طاقت کے اظہار کی تقریبات قراردیا تو فارووڈ بلاک کے وہ اراکین جو پیپلز پارٹی کے حامی ہیں اپنی اصل جماعت مسلم لیگ قاف کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ دونوں افطار پارٹیوں کے منتظمین نے شرکت کے لحاظ سے اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد کے متضاد دعوے کیے ہیں۔ تنازعہ اس پر ہے کہ مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلاک کہلائے جانے والے اراکین کی کتنی تعداد کس کے ساتھ ہے۔ فاروڈ بلاک کے ایک گروپ نے عطامانیکا کی سربراہی میں ن لیگ کی افطارپارٹی میں شرکت کی جبکہ پی پی کا حمایتی دوسرا گروپ نجف سیال کو قائد بنا کر اپنی اصل جماعت کے افطار ڈنر میں شریک ہوا۔ مسلم لیگ ن کا دعوی ہے کہ ان کی افطار پارٹی میں فاروروڈ بلاک کے چونتیس اراکین نے شرکت کی جبکہ مسلم لیگ قاف کا کہنا ہے کہ ان کی افطار پارٹی سے ان کے صرف بائیس اراکین غیرحاضر تھے۔
ان کا کہنا ہے مسلم لیگ ن کو حکومت برقرار رکھنی ہو یا پیپلز پارٹی اپنی حکومت بنانے کی کوشش کرے دونوں کو ہی مسلم لیگ قاف کے اراکین کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اتحاد مکمل طور پر ختم ہوگا تو اس کےبعد وہ پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں گے۔ چودھری پرویز الہی نے دعوی کیا کہ ان کی پارلیمانی پارٹی کے چوراسی میں سے باسٹھ اراکین نے ان کی افطار پارٹی میں شرکت کی یعنی صرف بائیس غیر حاضر تھے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا کہ قاف کے چونتیس اراکین اپنی پارٹی کے اجلاس سے غیر حاضر ہوکر رائے ونڈ فارم پر مسلم لیگ ن کی افطار پارٹی میں شریک ہوئے ہیں۔اس افطار پارٹی کے میزبان نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر تھے۔ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر سردار ذاوالفقار علی کھوسہ اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے اس موقع پر مشترکہ خطاب کیا اور کہا کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ مسلم لیگ قاف کے اراکین کو مسلم لیگ قاف کے قائدین نے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں رکے۔ مسلم لیگ قاف کے منحرف دھڑے کے ایک رکن عطامانیکا اور ڈاکٹر طاہر علی جاوید نے کہا کہ گورنر ہاؤس سے ٹیلی فون کرکے انہیں نواز لیگ کی افطار پارٹی میں شرکت سے روکنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ مسلم لیگ ن کے پنجاب میں ایک سو اکہتر اراکین ہیں اور سادہ اکثریت کی حکومت برقرار رکھنے کے لیے انہیں کم از کم ایک سوچھیاسی ووٹ درکار ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ مسلم لیگ قاف کے اراکین کی ایک تعداد اپنی پارٹی قیادت کو چھوڑ کر ان کے ساتھ آچکی ہے۔ مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلا ک کے ایک دھڑے کے رہنما نجف سیال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے پندرہ بیس روز میں مسلم لیگ قاف کا پیپلزپارٹی سے باقاعدہ اتحاد ہوجائے گا اور مسلم لیگ نون کا ساتھ دینے والے اراکین اپنی پارٹی کی جانب لوٹ آئیں گے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں بدھ کو پانچ ایسی افطار پارٹیاں ہوئی ہیں جن میں صوبائی اراکین پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کے رہمناؤں نے شرکت کی اور موضوع بحث پنجاب حکومت کا مستقبل رہا۔ لاہور میں تیسری سیاسی افطار پارٹی پیپلز پارٹی کی ہوئی جس کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر تھے۔اس پارٹی میں پیپلز پارٹی کے وزراء اور چند اراکین پنجاب اسمبلی شریک ہوئے۔ گورنر پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنایا اور وہ عوامی مینڈیٹ احترام کرتے ہیں تاہم انہوں نے صدر کے انتخاب کے موقع پر مسلم لیگ ن کی مخالفت کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ وہ لاہور کو پیپلز پارٹی کا قلعہ بنائیں گے اور بلال بھٹو کو لاہور سے الیکشن لڑوایا جائے گا۔ چوتھی افطار پارٹی انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیداروں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لیے منعقد کی تھی جبکہ پانچویں افطاری جماعت اسلامی کےمرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ کی جانب سے سینئر صحافیوں کےاعزاز میں دی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||