’شہدائے جمہوریت‘ کے ورثاء کی کسمپرسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ میں تحریکِ بحالی جمہوریت کے ان نو کارکنان کی ہلاکت کو پچیس برس مکمل ہو گئے ہیں جنہیں جنرل ضیاء کی آمریت کے دنوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے کارکنان کی برسی ضلع دادو میں ان کے آبائی شہر خیرپور ناتھن شاہ میں منائی گئی جس میں سپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو اور صوبائی وزیر پیر مظہر نے شرکت کی۔ خیرپور ناتھن شاہ میں منعقدہ حکومتی تقریبات سے ذرا ہٹ کر جب میں نے لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ کارکنان جن کی قربانیوں کا ذکر بار بار سیاسی تقاریر میں سننے کو ملتا رہتا ہے، انہی کے ورثاء تاحال کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شہر سے چند کلومٹر دور گاؤں عزیز نائچ پہنچا تو وہاں نظام الدین کی بیوہ اور بیٹوں کے پاس پیپلزپارٹی اور بینظیر بھٹو کے لیے محبت تاحال موجود دیکھی ۔ نظام الدین کی بیوہ مسمات بچل خاتون کو وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب ان کے شوہر ، جو دودھ فروخت کرنے کا کاربار کرتے تھے ، خیرپور ناتھن شاہ جلوس میں گئے۔ بچل خاتون کہتی ہیں کہ انہوں نے سمجھا تھا کہ شاید وہ دودھ بیچنےگئے ہیں مگر شام کو انہیں بتایا گیا کہ وہ بھٹو کے جلوس میں گئے اور فوجیوں نے انہیں گولی مار دی۔ بچل نے بتایا کہ انہیں سر میں گولی لگی تھی۔ بارہ ستمبر انیس سو تراسی کا وہ دن کسی کے لیے سیاسی ہلچل کا دن اور تحریک بحالی جمہوریت کے پہلے اجتماعی شہیدوں کا دن کیوں نہ ہو مگر مسمات بچل وہ دن اس لیے نہیں بھول سکی کہ نظام الدین اس دن سے ان کے پاس بہت ہی چھوٹے بچے چھوڑ گیا تھا۔ انہیں شکایت ہے کہ خیرپور ناتھن شاہ میں جب ان کے شوہر سمیت نو کارکنان کی برسی منائی جا رہی تھی تب کسی نے انہیں دعوت نامہ نہیں بھیجا ۔
بچل بتاتی ہیں کہ انہوں خود محنت مزدوری اور کاشتکاری کر کے بچوں کی پرورش کی ہے۔ زندگی کے کئی برس انہوں نے سود پر رقم حاصل کی اور بچوں کے علاج معالجہ کے اخراجات پورے کیے۔ نظام الدین کی بیٹی نور خاتون کے مطابق ان کے والد کو جب فوجیوں نےگولیاں مار کر ہلاک کیا تب وہ بہت چھوٹی تھیں اور انہیں اپنے والد کی شفقت نصیب ہوئی نہ ان کی’سک‘ (محبت ) پوری ہوئی۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ پیسوں کی کمی کی وجہ سے ان کے بھائیوں نے مکمل تعلیم حاصل کی نہ انہوں نے۔ نظام الدین کے ورثاء نے بتایا کہ بارہ ستمبر کے واقعے کے چند روز بعد ایک فوجی افسر ان کے گاؤں خون معاف کروانے پہنچا ۔فوجی افسر نے معاوضہ ادا کرنے کو کہا مگر ورثاء نے یہ جواب دیا کہ وہ اپنے پیاروں کے خون فوجیوں کو نہیں بیچتے ۔ پاکستان میں جنرل ضیاء کی فوجی آمریت کے خلاف پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اسی کی دہائی میں تحریک بحالی جمہوریت شروع کی تھی اورچودہ اگست انیس سو تراسی کو جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا گیا تھا۔ پاکستان کے دیگر صوبوں سے زیادہ زور اس تحریک نے صوبہ سندھ میں پکڑا تھا اور سندھ کے ضلع دادو کے لوگ اتنے سرگرم تھے کہ دادو کو ’چھوٹا ویتنام‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ خیرپورناتھن شاہ میں تحریک بحالی جمہوریت کے پہلے کارکن عبدالعزیز بیس اگست کو فوجیوں کی گولی سے ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد تحریک نے علاقے میں مزید زور پکڑ لیا تھا۔ خیرپور ناتھن شاہ کے سینئر صحافی مختیار چانڈیو نے بتا یا ہے کہ بارہ ستمبر کو اپنے دو گرفتار ساتھیوں کی رہائی کے لیے پیپلزپارٹی کے کارکنان کے جلوس نے خیرپور ناتھن شاہ تھانے کا گھیراؤ کیا اور یہ معلوم ہونے پر کہ ان کے ساتھی تھانے سے متصل فوجی ریسٹ ہاؤس میں مقید ہیں انہوں نے ریسٹ ہاؤس کوگھیر لیا تھا۔ اس پر فوجیوں نے ان کے جلوس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نو کارکنان ہلاک ہوگئے۔ ان میں غلام نبی کھوسو ،نظام الدین نائچ ،شاہنواز کھوسو، حبیب اللہ لغاری ،الہورایو لانگاہ ،دیدار علی ،عبدالغنی ،عبدالعزیز اور ضمیر احمد شامل تھے۔
ماضی میں پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں اعلانات ہوتے رہے کہ اس ریسٹ ہاؤس کی جگہ پبلک پارک اور یادگار تعمیر کی جائے گی مگر تاحال ان اعلانات پر عمل نہیں ہو سکا۔ کارکنوں کی اجتماعی ہلاکتوں کی جگہ پر مقامی عدالت تعمیر کی گئی ہے جبکہ پرانے ریسٹ ہاؤس کی جگہ نیا ریونیو ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں سید عبداللہ شاہ کے دور اقتدار میں نظام سمیت دیگر کارکنان کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے دیے گئے مگر نظام کے ورثاء کے مطابق اس رقم سے ان کےگھر کا ایک کمرا بھی تعمیر نہیں ہو سکا۔ خیرپور ناتھن شاہ میں وقت گزرنے کےساتھ بہت کچھ بدل چکا ہے مگر اپنی جانیں فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد میں قربان کرنے والے کارکنان کے ورثاء کی کسمپرسی اور پسماندگی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے تو مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نعرے کی حقیقت صرف ایوان صدر تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات خیرپور ناتھن شاہ میں بسنے والوں تک بھی پہنچیں۔ | اسی بارے میں ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے30 September, 2007 | پاکستان ’ہم جیے بھٹو کہے جائیں گے‘06 April, 2008 | پاکستان وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے09 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||