BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 September, 2005, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

News image
بائیس سال قبل جمہوریت کے لیے جان دینے والے آٹھوں نوجوان عام لوگ تھے
یہ ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے لوگ جہموریت کی بحالی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

فوجی حکومت کا دور تھا اور جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء عروج پر تھا۔ بنیادی حقوق، انتخابات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا۔ منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر چڑھانے کے بعد ملک میں قید اور کوڑوں کا راج تھا۔

ایسے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ’تحریکِ بحالی جمہوریت‘ایم آر ڈی کی اپیل پر تحریک چلی۔ اگرچہ اپیل ملک گیر تھی تاہم اس تحریک کا زور سندھ میں بھرپور انداز میں دیکھنے میں آیا۔

انیس سو تراسی میں جب پورے سندھ میں ضیاء مارشل لاء کے خلاف جیل بھرو تحریک جاری تھی، ان دنوں بارہ ستمبر کو دادو ضلع کے شہر خیرپور ناتھن شاہ میں احتجاج کرتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے جن پر قانون نافذ کرنے والوں نےگولی چلا دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

اس واقعے کے ایک چشم دید گواہ رفیق احمد کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں پیش کرنے سے قبل خیرپورناتھن شاہ میں ایک جلوس نکالا گیا۔ ابھی احتجاجی مظاہرہ جاری تھا کہ پولیس نےمظاہرین کو لانے والے دو بس ڈرائیوروں کو پکڑ کر درخت سے باندھ کر انہیں مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ مظاہرین نعرے لگاتے ہوئےتھانے پہنچ گئے اور ڈرائیوروں کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے اور انہوں نے تھانے کا گھیراؤ کر لیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ دونوں ڈرائیوروں کو سیکنڈ لیفٹیننٹ ارشد پکڑ کر لائے ہیں اور رہائی کے لیے انہیں سے بات کی جائے۔ مظاہرین شہر میں واقع آرمی ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔اس موقع پر مظاہرین اور آرمی اہلکار تلخ کلامی کے بعد گتھم گتھا ہوگئے۔ ایسے میں ریسٹ ہاؤس کی چھت پر نصب بندوقوں نے آگ اگلنا شروع کردی اور آٹھ نوجوان موقع پر ہی مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔

اس واقعہ کے بعد چند ہزار افراد کی آبادی والے چھوٹے سے شہرخیرپور ناتھن شاہ میں کرفیو نافذ کردیاگیا۔ لوگ دو دن تک گھروں میں قید رہے۔ ماحول میں سیاسی دباؤ اتنا تھا کہ موجودہ وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کو جو اس وقت مجلس شوٰری کے رکن تھے، اپنے علاقے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد مستعفی ہونا پڑا۔

اس واقعہ کے بعد پورے ملک کو شدید احتجاج نے لپیٹ میں لے لیا۔ قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں کی وجہ سے دادو ’سندھ کا ویتنام‘ کہلانے لگا۔

آج جب عام شہری سیاست سے اکتا گیا ہے مگر بائیس سال قبل جمہوریت کے لیے جان دینے والے آٹھوں نوجوان عام لوگ تھے۔ بتیس سالہ الھو رایو، تیس سالہ نظام الدین نائچ، اکیس سالہ حبیب لغاری، بیس سالہ دیدار علی، تیس سالہ غلام نبی، اٹھائیس سالہ شاھنوازکھوسہ، بائیس سالہ ضمیر جاگیران مزدوری کرتے تھے جبکہ اکیس سالہ عبدالغنی ایک استاد تھے۔

اس تحریک کو آج بائیس سال ہو چکے ہیں۔ اب تو ان مرنے والوں کی یاد رسمی انداز سے بھی نہیں منائی جاتی۔ سیاستدانوں کی طرح لوگ بھی ان کو بھول چکے ہیں مگر مرنے والوں کے لواحقین کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔

ان بائیس برسوں میں ملک میں چھ مرتبہ عام انتخابات ہوئے۔ دو مرتبہ بینظیر بھٹو حکومت میں آئیں اور دو مرتبہ نواز شریف لیکن ان مرنے والوں کے لواحقین کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ جمہوریت کا پھل قربانیاں دینے والوں کو تو نصیب نہیں ہوا بلکہ ان کے ورثاء بھی اس پھل سے محروم ہیں۔

مرنے والوں میں سے اکثر کے لواحقین کچی جھونپڑیوں میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ شہید غلام نبی کھوسو کے بچے اپنا کچا مکان گرنے کے بعد ماموں کے گھر رہتے ہیں۔ اگرچہ بینظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور حکومت میں ان افراد کے ورثاء کو ملازمتیں دینے، تعلیم دلانے کے لیے فنڈ قائم کرنے اورگھر تعمیر کرکے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن پارٹی کے دو دور حکومت گزر جانے کے بعد بھی یہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا۔

اکثر مرنے والوں کے بھائی اور بیٹے ٹریکٹر ٹرالیوں پر مٹی اٹھانے کا کام یا مزدوری کرتے ہیں۔ کبھی کبھی مزدوری نہ ملنے پران کے گھروں میں فاقہ کشی کی بھی نوبت آ جاتی ہے۔

اس تحریک کا اہم محرک پیپلز پارٹی کے رہنما اور علاقے سے منتخب ہونے والے ممبران ان کے دکھ درد میں بھی شریک نہیں ہیں۔ دیدار کھوکھر کی بہن بینظیر عرف اللہ بچائی نے بتایا کہ ’دیدار ہمارا واحد سہارا تھا۔ ہمیں ایک لاکھ روپے پیپلز پارٹی نے دلائے تھے اس کے علاوہ کوئی مدد نہیں کی گئی۔ ماں اور بھائی تنگدستی کے وجہ سے کوٹری چلے گئے‘۔

دیدار کے ماموں محمد خان کھوکھر نے بتایا کہ’ سابق وزیرِاعلٰی سندھ عبداللہ شاہ نے دو ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ ایفا نہیں ہو سکا۔ دیدار کے بھائی، بہنیں تعلیم نہیں حاصل کر سکی ہیں اور وہ تکلیف کی زندگی گزار رہے ہیں‘۔

فوجی بربریت کا چشم دید گواہ رفیق احمد اس واقعے کے بعد کچھ بھی نہ دیکھ سکا۔ ایک شیل اس کے چہرے پر لگا اور وہ بینائی سے کھو بیٹھا۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے زخمی ہونے کےباوجود گرفتاری دی اور جیل میں نابینا ہوگیا۔

رفیق احمد کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے ان سے ملاقات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ ان کی آنکھوں کا علاج کرایا جائیگا مگر اس پر عمل نہ ہوا وہ آج بھی جمہوریت کی جدوجہد کی یادیں ذہن میں محفوظ رکھ ہوئے نابینا ہیں۔ یہ آخری منظر تھا جو ان کی آنکھوں نے دیکھا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد