BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2008, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف آئین بچانے کے لیے تعاون نہیں‘

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)
میں اپنے دل میں شک و شبہات نہیں ڈالنا چاہتا: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ایسے تعاون کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو سابق صدر مشرف کے بنائے ہوئے آئین کو بچانے کے لیے مانگا جا رہا ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کرے۔

میاں نواز شریف نے سوموار کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل میں ابھی بھی گلہ ہے کہ صدر آصف زرداری نے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدہ پورے نہیں کیے ہیں لیکن پھر حکومت کے ساتھ اپنا تعاوں جاری رکھیں گے۔

گلہ برقرار
 دل میں ابھی بھی گلہ ہے کہ صدر آصف زرداری نے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدہ پورے نہیں کیے ہیں۔
نواز شریف
انھوں نے کہا کہ تعاون کرنے سے پہلے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہم تعاون کس چیز کے لیے کر رہے ہیں اور اگر تعاون سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے بنائے ہوئے آئین کو بچانے کے لیے مانگا جا رہا ہے تو ایسے تعاون کا ملک کو قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

میاں نواز شریف نے بتایا کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے وہ بل پارلیمنٹ میں پیش کر سکتے ہیں لیکن وہ حکومت کے منتظر ہیں کہ وہ پہل کرتےہوئے بل پارلیمنٹ میں پیش کریں۔

اس موقع پر انھوں نے سنیچر کے روز صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورتحال کے علاوہ میثاق جمہوریت اور سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے بات چیت کی گئی تھی۔

تعاون کہاں پر؟
 موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے اور قبائلی علاقوں میں ان و امان کے لیے حکومت سے غیر مشروط تعاون کیا جائے گا
نواز شریف

انھوں نے کہا کہ موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے اور قبائلی علاقوں میں ان و امان کے لیے حکومت سے غیر مشروط تعاون کیا جائے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق منظور ہونے والی قراداد پر عمل درآمد کے لیے ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے میں تاخیر کی گئی ہے تاہم اب کمیٹی کو مکمل ذمہ دار بنایا جائے کہ وہ قبائلی علاقوں کے تمام عناصر سے بات چیت کر کے کوئی حل تلاش کرے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ق سے رابطے کر رہی ہے نواز شریف نے کہا کہ آپ جو مرضی کہہ دیں میں اپنے دل میں شک و شبہات نہیں ڈالنا چاہتا ہوں۔

اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد