BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب، اتحاد بچانے پربات چیت

شہباز شریف
وزیر اعلی پنجاب بات چیت کی قیادت کر رہے ہیں
پنجاب میں حکمران اتحاد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں اختلافات ختم کرنے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ بات چیت کی قیادت پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور کردیےگئے اور انہیں پنجاب حکومت میں طے شدہ شیئر ملتا رہا تو وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ رہیں گے۔

حکمران اتحاد کی مذاکرات میں مصروف پانچ رکنی کمیٹی کےاجلاس کی سربراہی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کر ر ہے ہیں۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض، صوبائی وزیر تنویراشرف کائرہ، مسلم لیگ نون پنجاب کےصدر سردار ذوالفقارعلی کھوسہ اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ شامل ہیں۔

اس مفاہمتی اجلاس کے شروع کیے جانے کا فیصلہ کل پیپلز پارٹی کے وزیر راجہ ریاض کی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ایک ملاقات میں ہوا تھا۔

راجہ ریاض کے بقول انہوں نے یہ ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے انہیں کہا تھا کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں جو تحفظات ہیں ان سے وزیر اعلی شہباز شریف کو آگاہ کیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے منگل کو لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نےاپنے تمام تحفظات شہباز شریف کو بتا دیئے ہیں اور انہوں نےاس کا مثبت جواب دیا ہے۔

راجہ ریاض نے کہا کہ طے شدہ فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی پنجاب حکومت میں چالیس فی صد کی حصےدار ہے اور انہیں پنجاب حکومت سے طے شدہ شیئر ملتا رہا تو وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ چلیں گے اور نہ ملا تو وہ اپنی نئی حکمت عملی بنائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ حکومت میں شراکت داری سے ان کی مراد افسروں کی تقرریوں تبادلوں سرکاری ملازمتوں اور بجٹ کے لیے پیپلز پارٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کو شامل کرنا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب کے صوابدیدی فنڈ بھی شراکت داری کے فارمولے میں شامل ہے اور اراکین پنجاب اسمبلی کےحلقے کے مسائل بھی اسی شراکت داری کے فارمولے کےتحت حل ہونے چاہئیں۔

پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملات طے کرنے کے لیے جو اجلاس شروع ہوا ہےاس میں ان کے تحفظات ختم ہوجائیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر وہ اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ انہوں نےتوقع ظاہر کی کہ یہ اجلاس دو روز میں اپنا کام مکمل کر لےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد