کسی سے اتحاد نہیں ہو گا: پرویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کسی سے اتحاد نہیں کرے گی بلکہ جماعت کو مزید فعال کرتے ہوئے تھوڑے مگر صاف ستھرے لوگوں کے ساتھ ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے پنجاب حکومت اور بالخصوص مسلم لیگ نواز پر پنجاب میں ان کی جاعت کو سیاسی انتقام کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سنیچر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ قاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الہی نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت تبدیل نہیں کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے میڈیا پر آنے والی خبریں نے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ہونے والی ملاقات رسمی تھی جس میں سابق صدر کو مسلم لیگ قاف میں شامل ہونے یا پارٹی کے اختلافات ختم کروانے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ جب کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سیاست میں حصہ لینے کے خواہش مند ہیں۔ قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف نے پارٹی میں فاروڈ بلاک بننے کے حوالے سے کہا کہ موقع پرست لوگوں کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ ان کی جماعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ چاہے تھوڑے ہوں مگر صاف ستھرے لوگ ہمارے ساتھ چلیں اور پارٹی کو مزید فعال بناتے ہوئے ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ جو لوگ پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے ان کی فوری نشاندہی کی جائے گی۔ واضع رہے کہ مقامی میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق مسلم لیگ قاف کے رہنماوں نے پارٹی کی شعبہ خواتین کی سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سمیرا ملک کو پارٹی کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمیرا ملک نے چند روز قبل صدر آصف زرداری کی طرف سے دیے گئے ایک عشائیہ میں شرکت کی تھی۔
چوہدری پرویز الہی کے مطابق ان کی جماعت پنجاب میں یا وفاقی حکومت میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی جماعت سے کوئی اتحاد نہیں کرے گی بلکہ ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ چوہدری پرویز الہی پریس کانفرنس میں پنجاب میں ان کی جماعت کو مسلم لیگ نواز کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے کہنے پر بیورکریسی ان کے کارکنوں پر سینکڑوں کی تعداد جھوٹے مقدمات بنا رہی ہے۔ جب کہ ان کے بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز بھی مہیا نہیں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر خبردار کیا کہ اگر بیوروکریسی نے انتقامی کارروائیاں فوراً بند نہ کیں تو جلد ہی اُن کو نشان عبرت بنا دیا جائےگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتقامی کارروائیوں میں مسلم لیگ نواز ستر اور پیپلز پارٹی کا تیس فیصد کردار ہے۔ واضح رہے کہ ایک طرف پاکستان مسلم لیگ قاف پنجاب میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دونوں سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بُلانے کی قرارداد پر دستخط بھی ہیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف صدارت: بے وقت کی راگنی‘29 October, 2008 | پاکستان انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کا نقصان07 September, 2008 | پاکستان ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: مسلم لیگ ق11 August, 2008 | پاکستان سندھ کے سیاسی منظر نامے سے مسلم لیگ (ق) غائب27 March, 2008 | پاکستان کالعدم تنظیم اور مسلم لیگ کا ساتھ16 February, 2008 | پاکستان ’مسلم لیگ میں کوئی بغاوت نہیں‘28 August, 2007 | پاکستان مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا19 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||