BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈرون پاکستان سے اڑائے جاتے ہیں‘
ڈرون حملے کے بعد لاشیں
قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے تقریباً معمول کی بات بن گئی ہے
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملے کرنے والے ڈرون طیارے ملک کے اندر ہی سے پرواز کرتے ہیں۔

یہ انکشاف سینیٹر ڈائین فائنسٹائن نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کیا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی امریکی اہلکار نے اس بارے میں واضح الفاظ میں بیان دیا ہے کہ طیارے کہاں سے پرواز کرتے ہیں۔

ڈرون طیاروں کے حملوں پر قبائلی علاقوں میں بہت ناراضگی ہے اور اس سلسلےمیں حکومت پاکستان بھی امریکہ سے اپنی ناراضگی ظاہر کرتی رہی ہے۔

چند ماہ قبل امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ صدر بش نے پاکستان کی سرحدوں کے اندر حملوں کی باقاعدہ اجازت دیدی تھی لیکن حکومت پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں اس نے امریکہ کے ساتھ کوئی خفیہ سمجھوتہ کیا ہے۔

حملے کے بعد
میزائل پورے کے پورے مکانوں کو ملیامیٹ کر دیتا ہے

امریکی اخبار لاس اینجیلز ٹائمز کے مطابق یہ بیان خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سینٹر فائنسٹائن ایک انتہائی اہم عہدے پر فائز ہیں اور ان کے بیان سے یہ بحث دوبارہ شروع ہو جائے گی کہ کیا ڈرون حملوں کے سلسلے میں حکومت پاکستان کی خفیہ رضامندی شامل ہے؟

کمیٹی کی سماعت کے دوران سینیٹر فائنسٹائن نے سرحدی علاقوں میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ ڈرون طیارے پاکستان کے اندر ہی ایک فضائی اڈے سے پرواز کرتے ہیں۔‘

یہ حملے سی آئی اے کی جانب سے کیے جاتے ہیں جس نے اس بیان کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن لاس اینجیلیز ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس عہدیداران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ سینیٹر فائنسٹائن نے جو معلومات فراہم کی ہے وہ درست ہے۔

لیکن سینیٹر فائنسٹائن کے ترجمان نے کہا کہ ان کا بیان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں پر مبنی تھا کہ ڈرون اسلام آباد کے قریب واقع فضائی اڈوں سے پرواز کرتے ہیں۔

بہر حال، سینیٹر فائنسٹائن نے سماعت کے دوران کسی اخبار کا ذکر نہیں کیا تھا۔

بہت سے ماہرین کا اب تک یہ خیال رہا ہے کہ یہ طیارے افغانستان سے اڑتے ہیں اور انہیں امریکہ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ کی حیثیت سے سینیٹر فائنسٹائن کو انتہائی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہے اور اس پس منظر میں ان کا بیان بہت غیر معمولی ہے۔

سینیٹر فائنسٹائن نے جب یہ بات کہی اس وقت امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینیس بلئر کمیٹی کے سامنے بیان دے رہے تھے۔ بلئر نے فائنسٹائن کے بیان پر رائے ظاہر نہ کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کے مسئلے کو پاکستان ’سارٹ آؤٹ‘ کر رہا ہے یعننی اس سے نمٹ رہا ہے۔

ڈرون طیاروں کی پروازوں کے بارے میں اپنے کمینٹس سے پہلے سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کو بھی حملوں کے سلسلے میں کافی شکایتیں سننی پڑی ہیں۔

اسلام آباد پر ’قبضہ‘
ڈمہ ڈولہ پر امریکی حملے سے لیکر اب تک
ٹارگٹ وزیرستان
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت
ڈرون کے حملے زیادہ
امریکہ نےقبائلی علاقوں میں حکمت عملی بدلی ہے
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
 بیت اللہ مسحودایک پیغام
’کارروائی بند نہ ہوئی تو انتقام ضرور لیا جائےگا‘
طالبان’جاسوس‘ نیٹ ورک
’شمالی وزیرستان میں نیٹ ورک کمزور‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد