BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 07:47 GMT 12:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میریٹ دھماکہ، سات دن کی ریمانڈ

میریٹ دھماکہ
میریئٹ ہوٹل دھماکے میں ڈھائی سو افراد زخمی بتائے گئے ہیں

راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے میریٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے کے الزام میں گرفتار ہونے والے تین افراد کو سات روز کی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

ملزمان کو جمعہ کے روز پولیس کے سخت پہرے میں عدالت میں پیش کیا گیا اور تھانہ سیکریٹریٹ کے انچارج الطاف عزیز نے انسداد دہشت کی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ سے استدعا کی کہ ملزمان کا دس دن کا ریمانڈ دیا جائے کیونکہ اُن کی نشاندہی پر اس مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کرنا ہے۔

تاہم عدالت نے ملزمان کا سات دن کا ریمانڈ دیا اور تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ ملزمان کو 24 اکتوبر کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے۔

گرفتار ہونے والوں میں ڈاکٹر عثمان، رانا الیاس اور حمید افضل شامل ہیں اور
ان افراد کو پشاور اور وسطی پنجاب کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کو ایک روز قبل گرفتار کیا گیا تھا اور یہ افراد خودکش حملہ آوروں کے سہولت کار بتائے جاتے ہیں اور ان کے شدت پسندوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

دھماکے کے بعد ایک زخمی شخص

حکومت نے میریٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

اس ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے علاوہ انٹیلجنس ایجسیوں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔بیس ستمبر کو جب صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا اُسی روز ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھرا ہوا ڈمپرمیریٹ ہوٹل کے باہر اڑا دیا تھا۔

اس خود کش حملے میں چیک جمہوریہ کے سفیر سمیت پچاس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

چند روز بعد داخلہ امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ میریٹ ہوٹل پر ہونے والہ خودکش حملہ ناقص حفاظتی اقدامات کا نتیجہ ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے پولیس کو بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد