BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاغذاتِ نامزدگی کی واپسی جاری

فائل فوٹو
جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے
پاکستان میں آٹھ جنوری کو ہونے والے قومی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں اور وکلاء نے سینچر کو کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔

پاکستان الیکشن کمیشن نے انتخابات میں کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ پندرہ دسمبر تک مقرر کی ہے۔

لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظربند صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن، جماعت اسلامی کے امیدواروں اور وکلاء نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے لاہور کے چار صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔

حمزہ شہباز کے نامزد وکیل امتیاز احمد کیفی نے حمزہ شہباز کے ایماء پر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی ایک سوسینیتس، ایک سواڑتیس، ایک سو اکتالیس اور ایک سو باون سے کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔ اب وہ قومی اسبملی کے حلقہ ایک سو انیس سے امیدوار ہوں گے۔ اسی حلقہ میں ان والد شہباز شریف امیدوار تھے لیکن ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

فائل فوٹو
حمزہ شہباز نے لاہور کے چار صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی واپس لیے

خیال رہے کہ لاہور سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ ایک سو باون میں حمزہ شہباز کے مدمقابل سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہیٰ مسلم لیگ قاف کی طرف سے امیدوار تھے۔

اعتزاز احسن کی نظربندی کے وجہ سے ان کے کاغذات نامزدگی ان کے اہلیہ بشریٰ اعتزاز نےریٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہوکر واپس لیے۔ بشریٰ اعتزاز ایک جلوس کی شکل میں ایوانِ عدل پہنچیں۔ اعتزاز احسن لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوبیس سے پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔

بشریٰ اعتزاز نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے خطاب میں کہا کہ سنہ دو ہزار آٹھ کا سال کسی فوجی کا نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی بحالی، آئین کی بالادستی اور عوامی حکمرانی کا سال ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نے انتخاب میں حصہ نہ لے کر کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ ایک مہذب معاشرے میں باوقار طریقے سے رہنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر وکلاء نے اعتزاز احسن اور انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں اور صدر مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔

فائل فوٹو
اعتزاز احسن لاہور کے حلقہ ایک سو چوبیس سے پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے

لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شمیم ملک نے اعتزاز احسن کے علاوہ وکلاء رہنماؤں اور دیگر وکیلوں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا بھی اعلان کیا۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماء لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں اور امیدواروں نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیے۔

لیاقت بلوچ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات ایک فراڈ ہیں اور اس میں حصہ لینے والے عوام کے سامنے صفر ہوجائیں گے۔ ان کے بقول ملک بھر میں جماعت اسلامی کے ایک سو ساٹھ سے زائد امیدواروں نے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔

اس موقع پر سول کورٹ کے احاطے میں موجود وکلاء، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور سول سوسائٹی کے ارکان نے انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں نعرے لگائے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عزیز اکبر بیگ کے بقول بار کونسل کے رکن علی احمد کرد نے وکلاء تنظیموں کے فیصلے کی روشنی میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی جماعت اسلامی اور وکلاء نے کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت دیگر پارٹی کے دیگر امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بجائے ان کو پھاڑتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پانچ سے کاغذات نامزدگی واپس لیے

پشاور:
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے شہر نوشہرہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پانچ سے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور نوشہرہ این اے چھ سے جمیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) کے امیدوار مولانا حامد الحق کاغذات نامزدگی واپس لیے۔

جماعت اسلامی کے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے ایک جلوس کی شکل میں سیشن کورٹ اور سول کورٹ میں آئے جہاں جلوس کے شرکاء نے صدر مشرف کے خلاف نعرہ لگائے۔ اس موقع پر وکلاء نے اپنے کاغذات واپس لیے۔

کوئٹہ:

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور وکلاء کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے امیدواروں نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔

سردار عطاء اللہ مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے انتخابات کے بائیکاٹ کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ جام محمد یوسف نے بلوچستان نینشل پارٹی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش بھی کی ہے تاہم بی این پی نے انتخابات کے بائیکات کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی:

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق پاکستان بار کونسل کے رکن یوسف لغاری نے میر پور خاص کے قومی اسمبلی حلقہ دو سوستائیس جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار انوار احمد خان یوسف زئی نے کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو تنیتالیس سے کاغذات واپس لیے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان الیکشنانتخابی ٹکٹ
مسلم لیگ (ق) اور خفیہ ایجنسیوں کا تعلق ؟
عمران خان’بائیکاٹ ہونا چاہیے‘
انتخابات سے پاکستان میں انتشار بڑھے گا
مشرف’ایمرجنسی نہیں‘
انتخابات وقتِ مقررہ پر ہی ہونگے: جنرل مشرف
نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
بار سے چھٹی
انتخابات لڑنے والے وکلاء رکن نہیں رہیں گے
قاف لیگ کے تضاد
جنرل پر اتفاق ہے، شوکت پر نفاق ہے!
عاصمہ جہانگیردھاندلی کا الزام
انتخابات پر انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ
اسی بارے میں
انتخابات سے دور رہیں: قاضی
12 December, 2007 | پاکستان
اعتزاز انتخابات سے دستبردار
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد