BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 December, 2007, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدم تعاون،انتخابات کا بائیکاٹ

جرگہ (فائل فوٹو)
حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان ایک بار پھر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے: جرگہ
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ٹانک میں درے محسود قبائل کے جرگے نےحکومت سے عدم تعاون کا اعلان کرتے ہوئے علاقائی انتظام میں ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ جرگے نے آٹھ جنوری کے عام انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

جرگے کا موقف ہے کہ حکومت نے بیت اللہ گروپ کے چھ افراد کے رہائی سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان ایک بار پھر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

جرگے کے سربراہ مولانا معراج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے تین سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی رہائی کے دوران حکومت نے محسود امن کمیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ اہلکاروں کی رہائی کے بدلے میں مقامی طالبان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو رہا کیا جائےگا۔

جرگے کے مطابق حکومت نے پچیس افراد کو موقع ہی پر رہا کر دیا تھا اور تین افراد کواس سے پہلے رہا کر دیا گیا تھا جبکہ چھ افراد ابھی تک حکومت کی تحویل میں ہیں۔ اس کے علاوہ محسود قبائل کے رائس خان کو مقامی طالبان سے تعلق رکھنے کے شبہ میں اٹھارہ نومبر کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کرلیاگیا۔

جرگے کے مطابق ان افراد کی رہائی کے سلسلے میں محسود امن کمیٹی نے گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی اور کور کمانڈر مسعود اسلم سے اکرام الدین اور امیر محمد کی قیادت میں ملاقات کی لیکن ان دونوں نے ان افراد کی رہائی سے صاف انکار کیا اور جرگے کو بتایا کہ مقامی طالبان سے امن معاہدہ نہیں ہے۔

حکومت ذمہ دار
 جرگے نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے جرگے کی ساتھ کیاگیا وعدہ پورا نہ کیا تو جرگہ سمجھے گا کہ جنوبی وزیرستان میں دوبارہ حالات خراب کرنے کی ذمہ دار طالبان نہیں بلکہ حکومت خود ہے

مولانا معراج الدین نے کہا کہ مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان صرف زبانی نہیں بلکہ تحریری معاہدہ ہوا تھا کہ علاقے میں ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے وعدے کی خلاف ورزی واضح اشارہ ہے کہ علاقے میں دوبارہ جنگ لڑائی شروع ہونے والی ہے۔ معراج الدین کے مطابق جنوبی وزیرستان میں محسود کے حلقے میں تمام امیدواروں نے اتفاق رائے سے عام انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو جرگے نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے جرگے کی ساتھ کیاگیا وعدہ پورا نہ کیا تو جرگہ سمجھے گا کہ جنوبی وزیرستان میں دوبارہ حالات خراب کرنے کی ذمہ دار طالبان نہیں بلکہ حکومت خود ہے۔

جرگے میں محسود قبائل کے سرکرہ عمائدین ملک مسعود احمد، ملک سیف الرحمن، ملک راپا خان، ملک محمدعالم، ملک سعید الرحمن، ملک حیدرخان، ملک دلبرخان، مولانا عصام الدین اور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کے علاوہ کثیر تعداد میں دوسرے مسعود قبائل نے شرکت کی۔ جرگے نے محسود علاقے کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد یحیٰ اخوندزادہ کو بھی اپنے فیصلوں سے آگاہ کر دیا ہے۔

فرنٹ لائن پر
ٹانک میں تعینات پاکستانی فوجی
پاکستان فوج کمانڈر کی تردید
فوج نے انتظامیہ کے کسی دفتر پر قبضہ نہیں کیا
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
ٹانک ایک اکھاڑہ
’یہ شہر پل بھر میں قبائلی علاقہ بن سکتا ہے‘
شہریوں نے کیا دیکھا
’ٹانک میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا‘
اسی بارے میں
ٹانک کشیدہ، فوج تعینات
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد