’ہنگو،ٹانک میں حملےطالبان نے کیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبان نے ٹانک اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ حکومت نے پیر کوصوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کی تحصیل اسپین تھل میں ایک سکاؤٹس چوکی پر خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت کم بتائی ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس کے قریب تھی جس کا ان کے پاس ویڈیو ثبوت بھی موجود ہے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے تحصیل اسپین تھل میں خودکش حملے میں پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور پندرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ادھر جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کی بظاہر ایک نئی تنظیم نے پیر کو ہی ٹانک میں فوجی قافلے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے کمانڈر شہریار المعروف شہباز نے منگل کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے ’مجاہدین‘نےگزشتہ روز صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک میں منزئی کے مقام پر فوجی قافلے پر میزائل حملہ کیا جس میں سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ ہنگو میں حملے کے حوالے سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وزیرستان کے طالبان نے قبائلی علاقے سے باہر کسی جگہ پر سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں ’چوکی ضروری، بھلےکوئی ناراض ہو‘21 August, 2007 | پاکستان ٹل حملہ:خاتون ہلاکت پرغم وغصہ20 August, 2007 | پاکستان ہنگو: فوجی چوکی پر حملہ، چار ہلاک20 August, 2007 | پاکستان آپریشن، ہلاکتوں کے متضاد دعوے 19 August, 2007 | پاکستان بنوں، وزیرستان میں خود کش حملے18 August, 2007 | پاکستان ٹانک: فوجی قافلے پر خودکش حملہ17 August, 2007 | پاکستان بارودی سرنگ دھماکہ، دو ہلاک16 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||