BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہنگو،ٹانک میں حملےطالبان نے کیے‘
طالبان(فائل فوٹو)
پہلی بارطالبان نے قبائلی علاقے سے باہر سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبان نے ٹانک اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ حکومت نے پیر کوصوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کی تحصیل اسپین تھل میں ایک سکاؤٹس چوکی پر خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت کم بتائی ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس کے قریب تھی جس کا ان کے پاس ویڈیو ثبوت بھی موجود ہے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے تحصیل اسپین تھل میں خودکش حملے میں پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور پندرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کی بظاہر ایک نئی تنظیم نے پیر کو ہی ٹانک میں فوجی قافلے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کے کمانڈر شہریار المعروف شہباز نے منگل کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے ’مجاہدین‘نےگزشتہ روز صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک میں منزئی کے مقام پر فوجی قافلے پر میزائل حملہ کیا جس میں سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

ہنگو میں حملے کے حوالے سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وزیرستان کے طالبان نے قبائلی علاقے سے باہر کسی جگہ پر سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد