BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹل حملہ:خاتون ہلاکت پرغم وغصہ

نیم فوجی اہلکار (فائل فوٹو)
فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی صحیح تعداد ابھی معلوم نہیں۔(فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جبکہ پندرہ افراد زخمی ہیں جن میں بیشتر ٹل سکاؤٹس کے جوان ہیں۔

یونین کونسل ٹل رورل کے ناظم شوکت حیات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون بھی جان بحق ہوئی ہے جس سے علاقے میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ٹل شہر سے ایک کلومیٹر دور میرانشاہ سڑک پر سپین ٹل کے علاقے میں پیش آیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ڈبل کیبن سرف گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آوار نے اپنی گاڑی ٹل سکواٹس کی ایک چوکی سے ٹکرا دی جس سے وہاں پر زور دار دھماکہ ہوا۔

یونین کونسل ٹل رورول کے ناظم شوکت حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں ٹل سکاؤٹس کے چار اہلکار ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے دھماکے میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ ٹل اور کوہاٹ منتقل کیا گیا ہے جن میں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

شوکت حیات کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد وہاں پر موجود سکیورٹی فورسز نے مقامی لوگوں پر فائرنگ شروع کردی جس سے قریبی گاؤں میں ایک خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی ہلاکت سے علاقے میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ فوجی جوان ہمارے اپنے ملک کے لوگ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بغیر تحقیق کے اپنے عوام پر فائرنگ شروع کر دیں۔ ہمیں جوانوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ ٹل فوجی چھاؤنی کے جوان بھی مقامی لوگوں سے اس طرح سلوک کرتے ہیں کہ جیسے ان کی اور ہماری درمیان دشمنی ہوں۔‘

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کردیا جبکہ ٹل میرانشاہ سڑک بھی کئی گھنٹوں تک بند رہی۔

واقعہ کے عینی شاہد اور مقامی صحافی فرمان الدین شاکر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ کے قریب کسی کو نہیں جانے دیا۔

واضح رہے کہ ٹل میں فوجی چوکی پر خود کش پیر کی صبح ہوا تھا جس میں حملہ آور نے اپنی کار چوکی سے ٹکرا دی۔ ایک پولیس افسر کے بقول دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ حملہ آور کے پرخچے اڑ گئے۔

اس کے علاوہ سنیچر کی صبح بھی ٹل فوجی قلعے پر نامعلوم افراد نے راکٹ لانچروں سے حملہ کیا تھا تاہم اس حملے میں کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یاد رہے کہ ٹل تحصیل کی حدود تین قبائلی ایجنسیوں شمالی وزیرستان، کرم اور اورکزئی ایجنسی سے ملتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد