’چوکی ضروری، بھلےکوئی ناراض ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وزیرستان میں قائم کی جا رہی چوکیوں سے بھلے کوئی ناراض ہو لیکن یہ حفاظت کے نکتۂ نظر سے ضروری ہیں۔ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک مقامی ہوٹل میں ملک کے ساٹھویں یوم آذادی کے سلسلے میں قومی اور بین القوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیئے ایک تقریب میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔ن آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تقریب پہلی مرتبہ منعقد کی گئی۔ شمالی وزیرستان میں اور چند روز قبل جنوبی وزیرستان میں بھی فوج کی جانب سے چوکیاں قائم کرنے پر مقامی طالبان نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے امن معاہدے توڑنے کے اعلانات کر دیئے تھے۔ وحید ارشد کا کہنا تھا کہ سکیورٹی چوکیوں اور قلعوں پر حملوں سے نمٹنے کے لیئے انہوں نے ایک نیا لائحہ عمل اختیار کیا ہے جس کے تحت وہ حملے کے مقام پر جوابی کارروائی نہیں کرتے بلکہ حملہ آوروں کے آنے جانے کے روٹ بند کر دیتے ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ شاید صحافیوں کو علاقے کا ایک اور دورہ کروایا جائے گا۔ ملک میں مارشل لاء کی افواہوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حکومت سے رابطہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’جنوبی وزیرستان معاہدہ عملاً ختم‘18 August, 2007 | پاکستان آپریشن، ہلاکتوں کے متضاد دعوے 19 August, 2007 | پاکستان بنوں، وزیرستان میں خود کش حملے18 August, 2007 | پاکستان ہنگو: فوجی چوکی پر حملہ، چار ہلاک20 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||