BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 August, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنوبی وزیرستان معاہدہ عملاً ختم‘

مقامی طالبان
’بحالت مجبوری فی الحال حکومت کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ختم ہے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجو سردار بیت اللہ محسود کے ترجمان نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ علاقے میں فوجی پیش قدمی کی وجہ سے امن معاہدہ عملی طور پر ختم ہوگیا ہے۔

سنیچر کی دوپہر جنوبی وزیرستان میں محسود علاقے کے شدت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود نے بی بی سی اردو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ بحالت مجبوری فی الحال حکومت کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ختم ہے‘۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان فوج نے علاقے میں اپنی پیش قدمی سے امن معاہدے کو غیرموثر اور بے معنی بنا دیا ہے۔ تاہم بعد میں طالبان ذرائع نے وضاحتی بیان میں کہا کہ امن معاہدہ ان کی جانب سے توڑا نہیں گیا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے اس کی خلاف ورزی سے یہ ٹوٹا ہے۔

ادھر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے معاہدے کے ٹوٹنے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ معاہدے حکام اور قبیلوں کے درمیان ہوتے ہیں اور کسی ایک فرد کے چاہنے سے معاہدہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ’ابھی تک محسود قبیلے کے کسی سردار نے امن معاہدے کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا ہے‘۔

تقریباً ایک سال تک سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے بعد فروری سن دو ہزار پانچ میں بیت اللہ محسود نے جنوبی وزیرستان میں سراروغہ کے مقام پر حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد خطے میں حالات میں قدرے بہتری آئی تھی لیکن ڈھائی برس تک قدرے مفید ثابت ہونے کے بعد یہ معاہدہ اب بظاہر بے اثر ہوگیا ہے۔

طالبان ترجمان کے بقول اس اعلان کی وجہ دو روز قبل سکیورٹی فورسز کی جانب سے چغملائی کے علاقے میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش قدمی تھی جس پر انہیں بھی کارروائی کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سینیٹر صالح شاہ کے ذریعے فوجی حکام کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن اس دوران بھی فوجی پیش رفت جاری رہی جس کے بعد ان کے لیے کارروائی لازمی ہوگئی تھی۔

مقامی طالبان نے فوجی کی پیشقدمی کو معاہدہ توڑنے کی وجہ قرار دیا

ذوالفقار محسود نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ جمعہ کو ایک فوجی قافلے پر حملے میں چار گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ متعدد فوجی ہلاک بھی ہوئے تاہم سرکاری ذرائع نے ہلاکتوں کی نہیں صرف چار سپاہیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

اس کے علاوہ ترجمان نے جمعہ کی شام کو تحصیل سروکئی میں مولا خان سرائے کے علاقے میں ایک اور قافلے پر حملے میں نقصانات اور رات گئے تیارزہ خیسور میں چار فوجی مورچوں پر قبضے کا دعوٰی کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیت اللہ گروپ نے سبلاتوئی میں ایک فوجی قلعے پر بھی حملہ کیا تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

اس حوالے سے فوجی حکام سے رابطے کی کوشش کے باوجود بات نہیں ہو سکی۔

بیت اللہ کے ترجمان نے علاقے میں پندرہ اغوا شدہ ملیشیا سپاہیوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ان کی تحویل میں نہیں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ سپاہیوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش قدمی کی تھی جس کی وجہ سے انہیں پکڑا گیا۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
کون کسے مار رہا ہے
وزیرستان میں کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا؟
سیاہ شیشوں پر تنازع
وزیرستان: مقامی و غیر ملکیوں میں کشیدگی
ہارون رشیددورۂ جنوبی وزیرستان
فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد