صدر کے عہدے، فیصلہ آج ہی: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں، وردی میں انتخاب اور سترہویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت مکمل ہوگئی ہے اور نماز جمعہ کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ یہ فیصلہ مقامی وقت کے مطابق دو پہر دو بجکر پندرہ منٹ پر سنانے والی تھی لیکن اس میں تاخیر ہوئی۔ جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور جنرل مشرف کے وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعت جمعہ کے روز مکمل کرلی۔ جمعہ کے روز ممتاز قانون دان عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت کے معاون کی حیثیت سے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نااہلیت کی شق صدر مشرف پر لاگو نہیں ہوتی۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے ان سے استفسار کیا کہ اگر آئین میں کی جانے والی سترہویں ترمیم کو ختم کر دیا جائے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اس سے افراتفری پھیلے گی۔ بعد میں جواب الجواب کے طور پر دلائل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے کہا کہ سب نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں اور اس کا فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔ اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی جد و جہد میں بار اور میڈیا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے لیکن عدالت کو تو وہی فیصلہ دینا ہے جو قانون کے مطابق ہو۔ اکرم شیخ نے بینچ میں شامل جج صاحبان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے صدر مشرف کی وردی کو جائز قرار دیا تھا، اب آپ ہی ان کی وردی اتاریں۔ اس کے جواب میں جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت نے جنرل مشرف کو ایک خاص مدت تک وردی کے ساتھ صدارتی عہدہ رکھنے کی اجازت دی تھی لیکن اس کو قانونی حیثیت قومی اسمبلی نے آئین میں سترہویں ترمیم کے ذریعے دی ہے۔ بعد میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان اور پاکستان لائرز فورم کے سربراہ اے کے ڈوگر نے بھی جواب الجواب کے طور پر دلائل دیے۔ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں ہوگا کیونکہ بقول ان کے ’ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔‘ اس مقدمے میں سماعت کا آغاز سترہ ستمبر سے ہوا تھا اور اٹارنی جنرل نے دو روز قبل عندیہ دیا تھا کہ شاید اگلے بہتر گھنٹوں کے اندر اندر عدالت کوئی فیصلہ سنا دے۔ عدالت کی معاونت کے لیے دیگر وکلاء کے علاوہ عبدالحفیظ پیرزادہ اور اعتزاز احسن بھی پیش ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں شیر افگن کو توہین عدالت کا نوٹس24 August, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو نوٹس جاری03 August, 2007 | پاکستان پینشنروں کے مسائل پر از خود نوٹس29 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں14 June, 2007 | پاکستان ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس 26 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||