BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں کالی ماتا کا سہارا‘

ہنگلاج یاترا
اس سال لگ بھگ 30 ہزار لوگ ہنگلاج یاترا پر آئے ہوئے ہیں
پاکستان میں بلوچستان کے ساحل مکران کے قریب واقع ہنگلاج وادی میں تیرتھ یاترا کے سلسلے میں اس سال اندرون و بیرون ملک سے ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد جمع ہوئی ہے۔

ہنگلاج برصغیر پاک و ہند کے ہندوؤں کے بڑے استھانوں میں سے ایک ہے، جو دریائے ہنگول کے دائیں کنارے پر کھیر تھر پہاڑی سلسلے کی ایک تنگ وادی میں واقع ہے۔ استھان تک پہچنے کے لیے ہنگول نیشنل پارک میں سے گزرنا پڑتا ہے۔

یہاں ایک غار میں کالی ماتا کا مندر ہے اور پانی کے قدرتی چشمے، کھجور اور بیر کے درخت ہیں جبکہ کبھی کبھی پہاڑی راستوں پر ڈگ بھرتے ہرن سے مشابہہ آئی بیکس بھی نظر آجاتے ہیں۔

اس سال لگ بھگ 30 ہزار لوگ ہنگلاج یاترا پر آئے ہوئے ہیں، جن میں بھارت کے کچھ لوگ بھی شامل ہیں۔

منتظمین کا دعویٰ تھا کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ صوبے میں امن و امان اور راستوں کا بہتر ہونا ہے۔

لگ بھگ ڈھائی سال قبل تعمیر ہونے والی کراچی تا گوادر کوسٹل ہائی وے نے ہنگلاج یاترا کے سفر کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ ہندو یاتری کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کو کالی ماتا کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماء جسونت سنگھ نے بھی اپنے دورہِ پاکستان کے دوران ہنگلاج یاترا کی تھی۔

یاتریوں کی اکثریت درختوں تلے یا پہاڑ کے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہے

بالائی سندھ کے علاقے گھوٹکی سے آئے ہوئے یاتری شنکر لال کا کہنا تھا ’گوادر کا جو روڈ بنا ہے یہ ماتا کا معجزہ ہے، پہلے تو یہ روڈ کچا تھا جس سے یاتریوں کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور بہت کم لوگ ہنگلاج پہنچ پاتے تھے۔

ہنگلاج کے اس سالانہ بھنڈار یا میلے کا انتظام سندھ اور بلوچستان کے سرکردہ ہندوؤں کی ایک کمیٹی نجی طور پر کرتی ہے، جسے ہنگلاج شِوا منڈلی کہا جاتا ہے۔

اس کمیٹی کے چیف آرگنائزر ویرسی مل بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار اس بھنڈار کا باقاعدہ آغاز 20 سال قبل کیا گیا تھا۔ ’سال 1986 میں ایک سو پچیس یاتری آئے تھے اور اب یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے‘۔

وادی ہنگلاج میں یاتریوں کے لیے سرکاری سطح پر کوئی انتظامات نظر نہیں آئے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے وہاں صرف لیویز کے اہلکار سکیورٹی پر مامور کیے گئے ہیں اور ایک طبی کیمپ لگایا گیا ہے۔

ویرسی مل کے مطابق پینے کے پانی اور بجلی کی عدم دستیابی، مقدس مقامات تک جانے والے راستوں کی خرابی اور مواصلاتی رابطے کی سہولت نہ ہونا یاتریوں کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔

اشنان کے بعد سر مونڈے جا رہے ہیں

انہوں نے بتایا کہ وہاں ٹیلی مواصلات کا کوئی نظام نہیں ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ جنریٹر لے کر آتے ہیں جبکہ پینے کے پانی کے لیے ٹینکر بھی انہیں کرائے پر لینا پڑتے ہیں۔ اسی طرح کھانا پکانے کے لیے ایندھن اور لکڑی وغیرہ بھی باہر سے لاتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہ سب چیزیں یہاں میسر ہونی چاہیں۔

ہنگلاج میں یاتریوں کے قیام کے لیے صرف چار پختہ آرام گاہیں یا مسافر خانے ہیں، جن میں بمشکل 400 لوگوں کے قیام کی گنجائش ہے۔ ہنگلاج شِوا منڈلی نے کچھ جگہوں پر تمبو لگا کر بھی یاتریوں کے قیام کا بندوبست کیا ہوا ہے، لیکن یاتریوں کی اکثریت درختوں تلے یا پہاڑ کے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

ویرسی مل کہتے ہیں ’جتنا ہمارے پاس انتظام تھا ہم نے یاتریوں کو رہنے کے لیے جگہ دی باقی سب بے چارے زمین پر پڑے ہوئے ہیں‘۔

کالی ماتا کے مندر کے علاوہ ہنگلاج وادی اور اس کے اطراف میں دس ایسے مقامات ہیں جہاں ہندو یاترا اور پوجا کرتے ہیں ان میں ایک اہم مقام چندرگپ ہے، جو ہنگلاج سے 12 کلومیٹر دور ریگستان میں مٹی کی دو اونچے پہاڑ ہیں جن کے دہانے نمدار مٹی اگلتے ہیں۔ ان پہاڑوں پر پہنچ کر پوجا کرنا اس تیرتھ یاترا کا اہم حصہ ہے۔

ان پہاڑوں پر پہنچ کر پوجا کرنا تیرتھ یاترا کا اہم حصہ ہے۔

اسلام آباد سے آئے ہوئے نوجوان یاتری راجیش نے کہا کہ زیادہ تر مشکلات چندر گپ یاترا میں ہی ہوتی ہیں، کیونکہ وہاں جانے کے لیے یاتریوں کو کئی گھنٹے کڑکتی دھوپ میں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

بھارت کے شہر آگرہ سے آئی ہوئی کویتا البتہ اپنی ہنگلاج یاترا سے بہت خوش دکھائی دیں۔ انہوں نے کہا ’یہاں آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے بہت اچھا بنایا ہے ان لوگوں نے، ظاہر ہے کشٹ تو اٹھانا ہی ہے اور کشٹ نہیں اٹھائیں گے تو ماتا کے درشن کیسے کریں گے‘۔

کویتا نے کہا کہ وہ ماتا سے گھر کی سکھ شانتی کے لیے دعا کرنے ہنگلاج آئی ہیں ’نہ دولت چاہیے نہ کچھ اور، صرف ماتا کا سہارا چاہیے‘۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگلاج کی خوبصورت وادی جو ہندوؤں کے لیے ایک مقدس مقام بھی ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے نیشنل پارک کا حصہ بھی ہے اگر حکومت آمدورفت اور مواصلات کے ذرائع کو فروغ دے اور بجلی، پانی اور قیام کی سہولت فراہم کرے تو اس سے نہ صرف یاتریوں کی مشکلات دور ہونگی بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور یہ مقام پاکستان اور بھارت کی درمیان امن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہندو یاتری پہلی منزل انارکلی
بھارت سے لاہور آئے ہندو یاتریوں کی پہلی منزل
سندھ ہندو برادریمنصوبہ یا بد امنی
سندھ میں ہندو اقلیت ہی نشانہ کیوں؟
گریش کمار کے والد’ کوئی نہیں سنتا‘
’پاکستان میں اقلیتوں کی کوئی نہیں سنتا‘
ہندؤوں کی اذیت
کراچی میں ہندو کمیونٹی ذہنی اذیت کا شکار
فوجی دانش
دانش کہتے ہیں مشرف ان کا آئیڈیل ہیں
دیوی کالی قلات والی دیوی کالی قلات والی
دیوی کالی قلات والی کے میلے میں شرکت
اسی بارے میں
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد