شوا کے یاتری انارکلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کی شام پونے دو سو ہندو یاتری بھارت سے کٹاس مندر پر شوا راتری کا تہوار منانے کے لیے لاہور پہنچے تو بیشتر کی پہلی منزل انارکلی بازار تھی۔ لاہور میں واحد آباد کرشنا مندر کے سیکرٹری منور چاند نے کہا کہ یاتریوں کے پاس لاہور میں رہنے کے لیے تھوڑا سا وقت ہے اس لیے بہت سے لوگ آتے ہی شاپنگ کے لیے انارکلی چلے گئے۔ کرشنا مندر کے منتظم نے کہا کہ اس بار بھارت سے ہندو یاتری لاہور کے کرشنا مندر کے لیے رادھا کرشن اور ہنو مان کی مورتیاں لائے ہیں جنہیں مندر میں ڈھانپ کر رکھ دیا گیا ہے اور سترہ فروری کو ان کی رونمائی اور پوجا کی جائے گی۔ سمجھوتہ ایکسپریس سے لاہور آنے والے ایک سو چھہتر ہندو یاتری لاہو رمیں ایک رات قیام کے بعد جمعہ کو چکوال جائیں گے۔وہ چکوال سے پینتیس کلومیٹر دور تاریخی شری کٹاس راج مندر جائیں گے جہاں جمعہ کو شوا راتری کا دن منایا جائے گا۔ ماہا شوا راتری کا مطلب ہے ہندو دیوتا شوا کی رات۔ یہ یاتری رات بھر جاگ کر شوا کی پوجا کرتے ہیں اور اوم ناما شو یا پکارتے رہتے ہیں۔ چندی گڑھ سے آئے ایک بہتر سالہ ہندو یاتری ست پال نے کہا کہ انہیں دلی ہائی کمیشن سے ویزا لینے کے لیے بیس چکر لگانے پڑے اور آنے سے صرف ایک دن پہلے ویزا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ویزا کا حصول آسان بنائے کیونکہ پاکستان سے ہماری جذباتی وابستگی ہے۔ ست پال گسائیاں نے کہا کہ ان کا خاندان گوجرانوالہ سے بارہ کلومیٹر دور گاؤں بدوکی گسائیاں سے ہجرت کرکے بھارت گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کے قریب اس جگہ پر ان کے آباؤ اجداد نے سینکڑوں برس پہلے ایک اوتار بابا سائیں رامن کا ایک مندر تعمیر کیا تھا جو آج بھی قائم ہے تاہم لوگوں نے اس جگہ کے نام سے گسائیاں کا لفظ نکال دیا ہے۔
ست سال گسائیاں نے کہا کہ وہ کٹاس مندر کی یاترا کے لیے اس لیے آئے ہیں کہ وہاں جو منت مانی جائے پوری ہوتی ہے اور شواجی بھگوان یاترا کے لیے آنے والے کو بار بار بلاتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی تقریبا دو سو ہندو یاتری یہ تہوار منانے کے لیے بھارت سے پاکستان آئے تھے۔ تاریخ دانوں کے مطابق چھ ہزار قبل مسیح چکوال کے قریب کٹاس شہر بارہ میل پر پھیلا ہوا تھا جو اب سکڑ کر ایک گاؤں رہ گیا ہے جبکہ تاریخ دانوں کے مطابق کٹاس راج کا ست گھرا مندر تین ہزار قبل از مسیح کا ہے۔ جون سنہ دو ہزار پانچ میں بھارت کے حزب مخالف کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے پاکستان دورہ کے موقع پر کٹاس مندروں کی بحالی کے کام کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ہندو یاتری انیس فروری کو واپس بھارت جائیں گے۔ | اسی بارے میں سندھ: ہندو اقلیت ہی نشانہ کیوں؟ 11 February, 2007 | پاکستان زیبا کو ہندوستان چھوڑنے کا حکم16 January, 2007 | پاکستان پاکستان سکھوں کا گھر: شوکت15 June, 2006 | پاکستان کٹاس میں مندروں کا سنگ بنیاد02 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||