پاکستان سکھوں کا گھر: شوکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز نے جمعرات کو لاہور میں اعلان کیا کہ سکھوں کے مذہبی پیشوا گورو ارجن کی چار سو سالہ برسی کےموقع پر پاکستان نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز لاہور میں گورو ارجن کی برسی کی دس روزہ تقریبات کے سلسلہ میں ’سکھ مسلم بھائی‘ کے عنوان سے ایک سیمنار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر بینر پر مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں قتل کیے جانے والے گوروارجن کو ’شہید‘ لکھا گیا تھا۔ گوروارجن کی برسی پاکستان میں سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر منائی جارہی ہے جس کے لیے پانچ ہزار سکھ یاتری بھارت سے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار بشن سنگھ نے اپنی تقریر کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر کیا۔ تقریب میں شریک وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے اپنی بات کا اغاز سلام اور سکھ روایت کے تحت ست سری اکال کہہ کر کیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز جب خطاب کے لیے ڈائس پر آئے تو ہال میں موجود سینکڑوں سکھوں نے ست سری اکال کے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ گورو ارجن کی چار سو سالہ برسی پر بھارت سے پانچ ہزار یاتریوں کو ویزے جاری کیے جائیں گے اور انہوں نے یہ وعدہ پورا کردیا ہے اور آج خود بھی قومی اسمبلی کی بجٹ پر بحث کو چھوڑ کر اس برسی کی تقریب میں شرکت کے لیئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ سکھ کمیونٹی کی جو بھی مطالبات ہیں وہ انہیں پورا کریں گے۔ انہوں نے سکھوں کے مجمع سے مخاطب ہوکر کہا کہ پاکستان ان کا گھر ہے چاہے وہ بھارت سے آئیں یا کسی اورملک سے، جہاز سے آئیں یا ریل گاڑی سے یا بس سے، انہیں ایک بار پاکستان آنے کا ویزا دیا جائے گا اور اگر انہیں ملٹی پل ویزا چاہیے ہو تو وہ بھی مل جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات کے لیئے ترقیاتی منصوبے بنائے گئے ہیں جن کے تحت لاہور اور ننکانہ صاحب میں یاتریوں کے لیئے اعلیٰ درجہ کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے اور گورونانک کی یاد میں یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے گورو نانک کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان سے پوری دنیا نے بہت کچھ حاصل کیا اور وہ ایک عظیم قائد تھے۔ ’وہ اپنے چال چلن، مشن اور خیالات سے دنیا پر اثر انداز ہوئے۔‘ برطانوی ہندوستان کی تقسیم سے لاکھوں افراد مسلمانوں اور سکھوں کے فرقہ وارانہ تشدد میں ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں گرو ارجن کی چار سو سالہ برسی12 June, 2006 | پاکستان دوستی اور بس تو ہے! مسافر نہیں01 June, 2006 | پاکستان بیساکھی میلہ، بچھڑے ساتھی کی تلاش12 April, 2006 | پاکستان ننکانہ سے امرتسر پہلی پاکستانی بس28 March, 2006 | پاکستان امرتسر، ننکانہ: آزمائشی سفر شروع27 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||