گرو ارجن کی چار سو سالہ برسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر، چار جون کو سو سے زیادہ سکھ یاتری بھارت سے واہگہ کے ذریعے لاہور پہنچے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں قتل کیئے گئے سکھوں کے گرو ارجن کی چار سو سالہ برسی کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ متروکہ وقف املاک کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں بھارت سمیت دنیا بھر سے دس ہزار سے زیادہ سکھ یاتری شریک ہوں گے۔ جب سکھ یاتری واہگہ سے لاہور داخل ہوئے تو نگر کیرتن کی آوازیں سرحد کے دونوں جانب سنائی دے رہی تھیں۔ متروکہ وقف املاک کے حکام اور پاکستان سکھ گرو پربندھک کمیٹی کے اراکین نے ان کا استقبال کیا اور ان کو ہار پہنائے۔ وقف املاک کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار خان کے مطابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی ہدایت پر بھارت سے پانچ ہزار یاتریوں کو پاکستان آنے کا ویزہ دیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار خان کا کہنا ہے کہ گرو ارجن کی ہلاکت کے ایک سے زیادہ پہلو ہیں تاہم اسے اب چار سو سال گزر گئے اور ہمیں اب آگے بڑھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ’اب ہمیں سکھوں اور مسلمانوں میں مشترک نکات پر زور دینا چاہیے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب کو ایک خاندان جیسا ماحول فراہم کیا جائے‘۔
پاکستان سکھ پربندھک کمیٹی کے سردار بش سنگھ کا کہنا ہے کہ دس روزہ پروگراموں میں سکھ مسلم دوستی پر ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا جس کی صدارت وزیر اعظم شوکت کریں گے۔ ایک روز بعد وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الہی سکھ یاتریوں کے ایک بڑے اجتماع میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں گرو ارجن سنگھ کی موت مسلمانوں اور سکھوں میں ایک خلیج کا نکتہ آغاز سمجھی جاتی ہے لیکن ان کی چار سو سالہ برسی کا پاکستان میں سرکاری سطح پر منایا جانا اور اعلٰی حکام کی اس میں شرکت ایک بدلتے ہوئے ماحول کی عکاس کہی جاسکتی ہے۔ | اسی بارے میں پاک فوج کا پہلا سکھ افسر20 December, 2005 | پاکستان امرتسر، ننکانہ: آزمائشی سفر شروع27 January, 2006 | پاکستان امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی24 January, 2006 | پاکستان ننکانہ سے امرتسر پہلی پاکستانی بس28 March, 2006 | پاکستان بیساکھی میلہ، بچھڑے ساتھی کی تلاش12 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||