BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مندر مسمار، ہندوؤں کا احتجاج

ہندو برادری کا احتجاج
احتجاج میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی
کراچی میں نیٹی جیٹی پل کے نیچے واقع لکشمی نارائن مندر کی دیواریں مسمار کرنے اور داخلی راستے کے سامنے دیوار کی تعمیر کے خلاف ہندو برادری نے اتوار کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔

کراچی پریس کلب کے باہر ہونےوالے اس احتجاج میں ہندو خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ کراچی پورٹ اتھارٹی یا کے پی ٹی نے مندر کے باہر کی زمین فوڈ سٹریٹ کے لیے ایک غیرملکی کمپنی کو فراہم کی ہے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور مذہبی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ’عبادت کو مسمار کرنا بند کرو‘ ، ’ہر ہر مہا دیو‘ کہنے کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین میں شامل ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ یہ مندر انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں سے ایسا سلوک نہیں ہوتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔

ایک ہندو خاتون کے مطابق سو سال پرانے مندر میں پوجا پاٹ سمیت تمام تقریبات منعقد کی جاتی ہیں

ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ سو سال پرانے اس مندر میں پوجا پاٹ سمیت تمام تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ پاکستانی ہیں، بھارت سے نہیں مگر انہیں یہاں کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔

ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ مندر میں جو دیوار بنائی گئی ہے۔ وہ دراصل ہندو کمیونٹی کے دلوں سے گزر رہی تھی۔

ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ کے پی ٹی نے مندر کے داخلی راستے پر دیوار کھڑی کرکے مندر کو باہر کے میدان سے الگ کر دیا ہے۔ اس میدان میں وہ مذہبی تہوار مناتے ہیں جس سے اب وہ محروم ہوجائیں گے۔

سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر کٹھومل کا کہنا تھا کہ جو لوگ گنگا نہیں جاسکتے تھے، وہ اس مندر میں آتے تھے۔ یہ ان کے لیے دوسری گنگا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مندر کے آگے واقع جھولے لال مندر کو حکام توڑ چکے ہیں، اب اس بڑے مندر کو مسمار کرنا چاہتے ہیں۔

مندر کو توڑ کر پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے: ڈاکٹر کٹھومل

کٹھومل کا کہنا تھا کہ مندر کو توڑ کر پاکستان کے آئین اور قائداعظم محمد علی جناح کے ’ارشادات‘ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

سندھ میں اقلیتی امور کے بارے میں حکومت کے معاون کشن چند پاروانی نے
مندر کی چار دیواری کو مسمار کرنے کو غلط عمل قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی اس علاقے میں فوڈ سٹریٹ بنانا چاہ رہی ہے۔ مندر کے باہر میدان میں ہندو کمیونٹی ہولی کا تہوار مناتی ہے۔ یہ زمین مندر کی ملکیت ہے۔ وہ اس سلسلے میں وفاقی اور سندھ حکومت کو آگاہ کریں گے اور حکام کے اس عمل کی مزاحمت کی جائے گی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مندر کی قریبی زمین جو کے پی ٹی کی ملکیت ہے، گرینڈ لیجر کمپنی کو فوڈ سٹریٹ بنانے کے لیے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مندر کو کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس کا ان کے محکمے سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم متعلقہ لوگ کی شکایت پر کمپنی سے معلوم کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد