مندر مسمار، ہندوؤں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں نیٹی جیٹی پل کے نیچے واقع لکشمی نارائن مندر کی دیواریں مسمار کرنے اور داخلی راستے کے سامنے دیوار کی تعمیر کے خلاف ہندو برادری نے اتوار کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کراچی پریس کلب کے باہر ہونےوالے اس احتجاج میں ہندو خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ کراچی پورٹ اتھارٹی یا کے پی ٹی نے مندر کے باہر کی زمین فوڈ سٹریٹ کے لیے ایک غیرملکی کمپنی کو فراہم کی ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور مذہبی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ’عبادت کو مسمار کرنا بند کرو‘ ، ’ہر ہر مہا دیو‘ کہنے کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین میں شامل ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ یہ مندر انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں سے ایسا سلوک نہیں ہوتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔
ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ سو سال پرانے اس مندر میں پوجا پاٹ سمیت تمام تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ پاکستانی ہیں، بھارت سے نہیں مگر انہیں یہاں کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ مندر میں جو دیوار بنائی گئی ہے۔ وہ دراصل ہندو کمیونٹی کے دلوں سے گزر رہی تھی۔ ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ کے پی ٹی نے مندر کے داخلی راستے پر دیوار کھڑی کرکے مندر کو باہر کے میدان سے الگ کر دیا ہے۔ اس میدان میں وہ مذہبی تہوار مناتے ہیں جس سے اب وہ محروم ہوجائیں گے۔ سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر کٹھومل کا کہنا تھا کہ جو لوگ گنگا نہیں جاسکتے تھے، وہ اس مندر میں آتے تھے۔ یہ ان کے لیے دوسری گنگا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مندر کے آگے واقع جھولے لال مندر کو حکام توڑ چکے ہیں، اب اس بڑے مندر کو مسمار کرنا چاہتے ہیں۔
کٹھومل کا کہنا تھا کہ مندر کو توڑ کر پاکستان کے آئین اور قائداعظم محمد علی جناح کے ’ارشادات‘ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ سندھ میں اقلیتی امور کے بارے میں حکومت کے معاون کشن چند پاروانی نے انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی اس علاقے میں فوڈ سٹریٹ بنانا چاہ رہی ہے۔ مندر کے باہر میدان میں ہندو کمیونٹی ہولی کا تہوار مناتی ہے۔ یہ زمین مندر کی ملکیت ہے۔ وہ اس سلسلے میں وفاقی اور سندھ حکومت کو آگاہ کریں گے اور حکام کے اس عمل کی مزاحمت کی جائے گی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مندر کی قریبی زمین جو کے پی ٹی کی ملکیت ہے، گرینڈ لیجر کمپنی کو فوڈ سٹریٹ بنانے کے لیے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مندر کو کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس کا ان کے محکمے سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم متعلقہ لوگ کی شکایت پر کمپنی سے معلوم کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں سندھ: مندر میں آتشزدگی پر احتجاج19 December, 2003 | پاکستان پشاور: رام مندر خالی کرنے کا نوٹس02 November, 2003 | پاکستان سرحد: بےحرمتی، مندر نظر آتش 29 June, 2005 | پاکستان لاہور: سُندر مندر ڈھا دیا گیا16 June, 2006 | پاکستان کٹاس میں مندروں کا سنگ بنیاد02 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||