عوام سے محبت،حکام سے تکلیف ملی: یاتری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے کٹاس کے مندروں کی یاترا کے لیے آنے والے ہندو یاتریوں نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کے شہریوں کی طرف سے محبت جبکہ حکام کی طرف سے تکلیف ملی ہے۔ ان یاتریوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کے نرخے میں کٹاس راج مندروں کی یاترا کی اور لاہور کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قیام کے دوران کہا گیا کہ وہ ہوٹل سے نہیں نکل سکتے۔ ان پر لکشمی چوک میں ان کے ہوٹل سے نکلنے پر پابندی ہے اور جو زبردستی باہر چلے جاتے ہیں دو باوردی اہلکار ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ ایک سو باون یاتریوں کے وفد میں شامل ایک سنئیر صحافی مہندر کمارجین کا کہنا ہے کہ سرکاری رویہ انتہائی تکلیف دہ اور تذلیل پر مبنی ہے جبکہ عام شہریوں نے حیرت انگیز طور پر بے حد محبت کا مظاہرہ کیا۔ کٹاس کے مندر پاکستان کے ضلع چکوال کے نزدیک واقع ہیں۔ یہ مندر ہندوؤں کے لیے ایک مقدس مقام کا درجہ رکھتے ہیں۔ کٹاس کی یاترا کے لیے مذکورہ وفد کو پانچ روز پہلے واہگہ کے راستے پاکستان داخل ہوتے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پاس واہگہ سے براہ راست چکوال جانے کے لیے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں تھی اور سیکورٹی اہلکاروں نے یہ کہہ کر انہیں لاہور داخل ہونے سے روکے رکھا کہ ان کے پاس لاہور کا ویزہ نہیں ہے۔ یہ یاتری رات گئے لاہور داخل ہوئے تو انہیں لکشمی چوک کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا کر باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یاتریوں نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر گوشت نہیں کھاتے اور باقیوں کی بڑی تعداد کم ازکم یاترا کے دوران گوشت یا گوشت کی آمیزش والے سالن نہیں کھا سکتی جبکہ لکشمی چوک میں ہر ہوٹل کے باہر لٹکے بکرے اور مرغ ان کے لیے مشکل کا باعث بنے رہے۔ یاتریوں کی بڑی تعداد نے پھل کھا کر گزارا کیا۔ اگلے روز سیکیورٹی کے نرخے میں انہیں چکوال لے جایا گیا۔ چکوال میں دو روز قیام کے بعد واپسی کے لیے بس میں بیٹھے تو کچھ دیر بعد یہ کہہ کر اتار دیا گیا کہ ابھی سیکیورٹی کا بڑامسئلہ ہے۔
ہریانہ کی ششی گپتا نے کہا کہ ان کے لاہور گھومنے پر بھی پابندی ہے اور اگر کسی کو سڑک پار کسی دکان تک جانا ہو تو دو باوردی پولیس اہلکار ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ چند افراد نے دوسرے ہوٹل منتقل ہونے یا کھانے کے لیے جانے کی کوشش کی تو انہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے روک لیا۔ یاتریوں نے اس پر احتجاج کیا اور سڑک پر بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تو مزید نفری تعینات کر دی گئی۔ آٹھ گھنٹے تک بیشتر یاتریوں کی رہائش کا نہ بندوبست ہو سکا اور نہ ہی ان کو اس ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت تھی۔ ہوٹل کے سامنے ایک سفید کار میں بیٹھے ’بغیر وردی کے ایک اہلکار‘ نے، جو خود کو پولیس کی سپیشل برانچ کا ڈی ایس پی ظاہر کرتے رہے، کہا کہ وزارت خارجہ کے حکام نے انہیں ہدایت کی ہے کہ کسی ہندو یاتری کو اس ہوٹل سے باہر نہیں جانے دینا۔ امرتسر کے راجیش نے کہا ہے اس توہین آمیز رویے کے بعد ان کا دل چاہتا ہے کہ انہیں رات کے رات واپس ہندوستان بھجوادیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حیثیت ایک قیدی سے زیادہ کی نہیں ہے۔ پنجاب میں پروٹوکول آفیسر محمد وسیم نے بتایا کہ ان کے پاس لاہور کے ویزے نہیں ہیں اس لیے انہیں ہوٹل سے باہر نہیں جانے دیا جا رہا۔ بھارت کے ہندی اخبار جاگرن کے سنیئر رپورٹر مہندر کمار جین نے کہا کہ پاکستان کے عام شہریوں کا رویہ اچھا رہا، اگر وہ کہیں پبلک کال آفس پر فون کرنے چلے جاتے تو آپریٹرچائے پلائے بغیر نہیں چھوڑتا۔ ’عام دکاندار کو یہ معلوم پڑجائے کہ انڈیا سے آئے ہندو یاتری ہیں تو عام طور پر چھوٹی موٹی چیز کے پیسے نہیں لیتے یا بڑی رعایت کرتے ہیں۔‘ پنجاب کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سپیشل برانچ مبارک علی اطہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی طرف سے کسی ہندو یاتری کے گھومنے پھرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو یاتریوں پر سپیشل برانچ کے کسی اہلکار کی ڈیوٹی نہیں ہے اور خود کو ڈی ایس پی کہنے والے شخص کا پنجاب پولیس سے کے کوئی تعلق نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ہندو یاتریوں کی پاکستان آمد06 March, 2005 | پاکستان امریندر سنگھ چکوال کے دورے پر16 March, 2005 | پاکستان پارلیمانی وفود کےتبادلوں پر زور01 June, 2005 | پاکستان کٹاس میں مندروں کا سنگ بنیاد02 June, 2005 | پاکستان یاتری اپنےآبائی گھر بھی دیکھیں گے08 June, 2005 | پاکستان سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے12 April, 2005 | پاکستان بیساکھی کے موقع پر خصوصی بسیں17 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||